آپ کے مسائل اور ان کا حل
سوال: عید کے موقع پر مبارک باد دینے اور گلے ملنے کا کسی حدیث میں ذکر ہے؟ برائے مہربانی حوالے کے ساتھ بتادیجیے!
جواب: عید کے موقع پر ایک دوسرے کو مبارک باد دینا جائز، بلکہ مستحب ہے، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم عید کے دن ایک دوسرے کو یہ دعا دیتے تھے ”تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا وَ مِنْکُمْ صَالِحَ الْأَعْمَال“ (اللہ تمہارے اور ہمارے نیک اعمال قبول فرمائے )۔
علامہ شامی رحمہ اللہ نے محقق ابن امیر حاج رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ ہمارے ہاں ملک شام میں لوگ ایک دوسرے کو ”عید مبارک “ کہتے ہیں، اسے بھی اس دعا کے عموم میں شامل کیا جاسکتا ہے، اس لیے کہ جس شخص کے اعمال قبول ہوگئے، وہ زمانہ اس کے لیے بابرکت ہوگیا ، اس لیے برکت کی دعا دینا جائز ہے، لیکن عید مبارک کہنا ضروری نہیں ہے، اسے لازم سمجھنا یا اس پر اصرار کرنا درست نہیں ہے۔
عید کے موقع پر عید کی مبارک باد دینے کے لیے گلے ملنا رسول اللہ ﷺ یا صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت نہیں، لہٰذا اس موقع پر گلے ملنا سنت یا مستحب نہیں ہے، لیکن عبادت یا لازم سمجھے بغیر گلے ملنے میں حرج نہیں ہے۔(ردّ المحتار، كتاب الصلاۃ، باب العيدين، ج:2، ص:169، ط:سعيد - شعب الایمان للبیھقي، باب في الصیام في لیلۃ العیدین ویومھا ۳/۳۴۵، رقم:۳۷۲۰)
اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
iqra@banuri.edu.pk