آپ کے مسائل اور ان کا حل
سوال: بعض علماء کہتے ہیں کہ روزے کے دوران آنکھوں میں دوا ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا، آپ بتائیے کہ کیا روزے کے دوران آنکھوں میں دوا ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا؟ یا مکروہ ہوگا؟ اور روزے میں سرمہ لگانے کا کیا حکم ہے؟ کیا کسی حدیث سے روزے کے دوران آنکھوں میں سرمہ ڈالنے کا ثبوت ملتا ہے؟ اگر آنکھ میں دوا ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے تو سرمے سے کیوں نہیں ٹوٹتا، دونوں میں کیا فرق ہے؟ آنکھوں میں سرمہ ڈالنے کے بعد بھی تو اس کا اثر حلق تک واضح طور پر پہنچتا ہے؟
جواب: واضح رہے کہ جس طرح آنکھ میں سرمہ لگانے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا، اسی طرح آنکھ میں دوا ڈالنے سے بھی روزہ فاسد نہیں ہوتا، اگرچہ سرمے اور دوا کا اثر حلق میں محسوس ہو؛ اس لیے کہ روزے میں سرمہ لگانا حدیث شریف سے ثابت ہے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ آنکھوں میں سرمہ لگانے کے بعد اس کا اثر حلق میں محسوس ہوتاہے، لیکن اس کے باوجود احادیثِ مبارکہ میں اسے روزہ توڑنے کے اسباب میں شمار نہیں کیا گیا۔
روزے میں سرمہ لگانے کے جواز سے متعلق بہت سی روایات مروی ہیں، جامع الترمذی، سنن ابن ماجہ، سنن کبریٰ بیہقی، مستدرک حاکم اور صحیح ابن خزیمہ میں اس حوالے سے مرفوع روایات مذکور ہیں، ان روایات کی سند پر گو کلام ہے، اور بعض بہت ضعیف ہیں، تاہم ملا علی قاری رحمہ اللہ اور دیگر محدثینِ کرام فرماتے ہیں کہ ان روایات کے مجموعے سے ایک قوت حاصل ہوجاتی ہے جس کی بنیاد پر ان احادیث کے مجموعے سے استدلال درست ہے، نیز سنن ابی داؤد میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے موقوفًا سندِ حسن سے ثابت ہے کہ وہ روزے کی حالت میں سرمہ لگایا کرتے تھے۔
یہ روایت بالاتفاق قابلِ استدلال ہے۔ بہرحال احادیث کی روشنی میں روزے کے دوران سرمہ لگانے کا جواز ثابت ہے۔ نیز روزے کے احکام سے متعلق احادیث کو مدِّ نظر رکھ کر مجتہدین حضرات نے یہ اصول بیان کیا ہے کہ اگر منفذِ معتاد (natural bodily passage)سے کوئی چیز بدن میں داخل ہوجائے تو روزہ فاسد ہوتاہے، جب کہ آنکھ منفذِ معتاد نہیں ہے۔
اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
iqra@banuri.edu.pk