آپ کے مسائل اور ان کا حل
سوال: شوال کے چھ روزوں کی کیا حیثیت ہے؟ نیز کیا یہ روزے پورے شوال میں متفرق طور پر رکھ سکتے ہیں ؟
جواب: شوال کے چھ روزے رکھنا مستحب ہے، احادیثِ مبارکہ میں اس کی فضیلت وارد ہوئی ہے، چناں چہ رسول ﷲصلی ﷲ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی صحیح سندکے ساتھ حدیث کی مستند کتابوں میں موجود ہے۔ ’’حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے رمضان کے روزے رکھے اور پھر شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ ہمیشہ (یعنی پورے سال)کے روزے شمار ہوں گے۔‘‘ (رواہ الجماعۃ إلا البخاري والنسائي ، إعلاء السنن لظفر احمد العثماني -کتاب الصوم - باب استحباب صیام ستۃ من شوال وصوم عرفۃ -رقم الحدیث 2541- ط: ادارۃ القرآن کراچی)
اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآنِ کریم کے وعدے کے مطابق ہر نیکی کا بدلہ کم از کم دس گنا ملتا ہے، گویا رمضان المبارک کے ایک ماہ کے روزے دس ماہ کے روزوں کے برابر ہوئے، اور شوال کےچھ روزے ساٹھ روزوں کے برابر ہوئے، جو دو ماہ کے مساوی ہیں، اس طرح رمضان کے روزے رکھنے کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنے والا گویا پورے سال روزہ رکھنے والا ہوجاتا ہے۔
شوال کے چھ روزے یکم شوال یعنی عید کے دن کو چھوڑ کر شوال کی دوسری تاریخ سے لے کر مہینے کے آخر تک الگ الگ کرکے اور اکٹھے دونوں طرح رکھے جاسکتے ہیں، لہٰذا ان روزوں کا اہتمام کرنا چاہیے۔
البتہ اگر کوئی روزہ نہ رکھے تو اسے طعن و تشنیع کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے؛ کیوں کہ یہ مستحب روزہ ہے، جسے رکھنے پر ثواب ہے اور نہ رکھنے پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ (رد المحتار 2/ 435 ط: سعید)
اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
iqra@banuri.edu.pk