اسلام آباد(کامرس رپورٹر ) حکومت نے برآمدکنندگان کیلئے برآمدی سہولت اسکیم ( ای ایف ایس) میں توسیع کر دی اور استعمال کی مدت 9ماہ سے بڑھا کر 18ماہ کر دی ،برآمد کنندگان درآمد شدہ خام مال پر زیرو ڈیوٹی اور درآمدی مرحلے کے ٹیکسوں سے استثنیٰ حاصل کر سکیں گے ، وزیرمملکت خزانہ بلال اظہرکیانی نے کہا کہ برآمدی سہولت سکیم کی مدت میں توسیع سے برآمد کنندگان کے اخراجات میں کمی آئے گی اور خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمد کنندگان کو فائدہ پہنچے گا، برآمد کنندگان درآمد شدہ خام مال پر زیرو ڈیوٹی اور درآمدی مرحلے کے ٹیکسوں سے استثنا حاصل کر سکیں گے بشرطیکہ وہ اسے 18 ماہ کے اندر استعمال کریں، پہلے یہ مدت 9 ماہ تھی،وزیرمملکت نے کہاکہ 18 ماہ کی مدت کے بعد مزید 6 ماہ کی اضافی توسیع بھی کیس ٹو کیس بنیاد پر ایک کمیٹی کے ذریعے دی جا سکے گی،اس کے ساتھ ساتھ ہر چھ ماہ بعد مفاہمتی اسٹیٹمنٹ جمع کروانے کی شرط سکیم کے غلط استعمال کو روکنے میں مدد دے گی۔انہوں نے کہاکہ کمیٹی نے اپنی سفارشات مرتب کرنے سے پہلے ماضی کے ای ایف ایس ڈیٹا اور خطے کے دیگر ممالک کے تقابلی معیارات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے، پالیسی تبدیلی سے قبل ای ایف ایس استعمال کرنے والوں کے ان پٹ سامان کی کل 7932 گڈز ڈیکلریشن ایسی تھیں جو مقررہ 9 ماہ کی مدت سے تجاوز کر چکی تھیں اب 18 ماہ کی نئی مدت کے نفاذ کے بعد یہ تمام گڈز ڈیکلریشن دوبارہ سکیم کے تحت برآمدات کے لیے اہل ہو گئی ہیں، مزید بہتریاں بھی متعارف کروائی گئی ہیں اور سکیورٹی ڈیپازٹ کی رقم کی خودکار بحالی اس حد تک ہوگی جتنی مالیت کا سامان استعمال ہو کر برآمد ہو چکا ہو، اس سے برآمد کنندگان کا وقت بچے گا۔ ای ایف ایس صارفین کو ریگولیٹری کلیکٹر کے فیصلوں کے خلاف چیف کلیکٹر کے پاس اپیل کا حق بھی دے دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت برآمدات پر مبنی، نجی شعبے کی قیادت میں اور پائیدار معاشی ترقی کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔