کراچی (رفیق مانگٹ)ایران جنگ کے باعث عالمی مالیاتی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا جہاں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک وقت میں 119 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تاہم دن کے اختتام تک برینٹ تیل 108.65 ڈالر پر بند ہوا۔توانائی بحران کے باعث گیس مارکیٹ بھی شدید دباؤ کا شکار ہے‘یورپ میں گیس کی قیمتیں فروری کے بعد سے دوگنا ہو چکی ہیں جبکہ بعض مقامات پر 35 فیصد تک فوری اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ قطر کے بڑے ایل این جی پلانٹس کو نقصان پہنچنے سے عالمی سپلائی مزید متاثر ہوئی جس کے اثرات ایشیا اور یورپ دونوں میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ تیل و گیس کی قیمتوں میں اس تیزی نے عالمی مہنگائی میں خطرناک اضافہ پیدا کر دیا ہے، اور عالمی مالیاتی فنڈ کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو عالمی اقتصادی پیداوار میں 0.2 فیصد تک کمی اور مہنگائی میں نمایاں اضافہ متوقع ہے‘ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ طویل جنگ کی صورت میں مہنگائی 5 فیصد تک جا سکتی ہے جس سے “اسٹیگ فلیشن” کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔توانائی کی قیمتوں میں اس اچانک اضافے کے بعد ایشیا اور یورپ کی اسٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی دیکھی گئی، جہاں جاپان کی مارکیٹ 3.4 فیصد، جرمنی 2.8 فیصد اور جنوبی کوریا 2.7 فیصد گر گئی۔ بعد ازاں تیل کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ امریکی مارکیٹ نے کچھ نقصانات پورے کیے، جہاں S&P 500 صرف 0.1 فیصد نیچے رہا، جبکہ اس سے پہلے یہ تقریباً 1 فیصد تک گر چکا تھا ۔ماہرین کے مطابق امریکی مارکیٹ نسبتاً کم متاثر ہوئی کیونکہ امریکی کمپنیاں مشرقِ وسطیٰ کے تیل پر کم انحصار کرتی ہیں، تاہم عالمی غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیا ہے۔