کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PM&DC) نے اپنے کونسل اجلاس میں ملک میں پوسٹ گریجویٹ (PG) میڈیکل تربیت کی صلاحیت کا جامع جائزہ لیا اور صوبائی محکمہ صحت کو باضابطہ سفارشات جاری کی ہیں تاکہ میڈیکل گریجویٹس اور دستیاب پوسٹ گریجویٹ تربیتی مواقع کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو کم کیا جا سکے۔پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران انڈرگریجویٹ میڈیکل تعلیم میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جس کے نتیجے میں میڈیکل گریجویٹس کی تعداد مناسب حد تک بڑھ گئی ہے اور بعض شعبوں میں یہ تعداد ضرورت سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ تاہم، اس اضافے کے ساتھ پوسٹ گریجویٹ تربیتی نشستوں میں متناسب اضافہ نہیں کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں ہر سال بڑی تعداد میں اہل ڈاکٹر محدود تعداد میں دستیاب پوسٹ گریجویٹ ریزیڈنسی نشستوں کے لیے مقابلہ کرتے ہیں، خصوصاً سرکاری شعبے میں جہاں زیادہ تر منظور شدہ تربیتی پروگرامز چلائے جاتے ہیں۔ کونسل نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ اصل مسئلہ گریجویٹس کی تعداد نہیں بلکہ تربیتی نشستوں اور بعد ازاں روزگار کے مواقع کی کمی ہے۔ کونسل نے مشاہدہ کیا کہ یہ عدم توازن ہنر مند میڈیکل گریجویٹس کی بیرون ملک بہتر تربیت اور کیریئر کے مواقع کی تلاش میں بڑھتی ہوئی ہجرت کی ایک بڑی وجہ ہے۔ کونسل نے اس بات پر زور دیا کہ PM&DC ایکٹ 2022 کے تحت کونسل کو میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم و تربیت کے معیار، منظوری اور تسلیم شدگی کو منظم کرنے کا اختیار حاصل ہے۔