دوحہ (اے ایف پی) — ایران کی جانب سے قطر میں دنیا کے سب سے بڑے مائع قدرتی گیس پلانٹ پر حملے کے بعد جمعرات کو تیل اور گیس کی قیمتوں میں شدید اضافہ دیکھا گیا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایسے حملے جاری رہے تو امریکا سخت ردعمل دے گا۔عالمی معیار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں ابتدائی طور پر 10 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ یورپی گیس کی قیمتیں 35 فیصد تک بڑھ گئیں، جب ایران نے قطر کے بڑے راس لفان ایل این جی فیسلٹی پر حملہ کیا۔ یہ حملہ ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر اسرائیلی حملے کے ردعمل میں کیا گیا۔فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے اس صورتحال کو “لاپرواہانہ کشیدگی” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر مشرقِ وسطیٰ کی توانائی پیداوار متاثر ہوئی تو اس جنگ کے اثرات دیرپا ہوں گے۔ انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات پر زور دیا،۔قطر دنیا کے بڑے LNG پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، جن میں امریکا، آسٹریلیا اور روس بھی شامل ہیں، جبکہ راس لفان دنیا کا سب سے بڑا LNG مرکز ہے۔ جنگ کے آغاز سے اب تک یہ تنصیبات کئی بار ایرانی حملوں کا نشانہ بن چکی ہیں۔سرکاری کمپنی قطر انرجی کے مطابق ایران کے دو مرحلوں پر مشتمل حملوں سے LNG تنصیبات میں بڑے پیمانے پر آگ لگ گئی اور شدید نقصان پہنچا۔ برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے دفتر نے بھی خبردار کیا کہ اہم انفراسٹرکچر پر حملے خطے کو مزید بحران کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔