اسلام آباد (عاصم جاوید) اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیراعظم کے بغیر ہائی پاور سلیکشن بورڈ کی تشکیل کے خلاف درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت اجلاس کو قانون کے مطابق قرار دے دیا۔ عدالت نے وزیراعظم کے بغیر سلیکشن بورڈ کی تشکیل کو غیر قانونی قرار دینے کی استدعا مسترد کر دی جبکہ ہائی پاور سلیکشن بورڈ کے 29 ویں اجلاس میں سینئرز کو نظر انداز کر کے جونیئرز کی گریڈ 21 سے گریڈ 22 میں ترقی کیلئے سفارش کرنے کی کارروائی کو کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے آفیسرز کیلئے دو مرتبہ پروموشن کیلئے زیر غور آنے کے باوجود گریڈ 22 میں ترقی نہ پانے پر پروموشن کیلئے ہمیشہ کیلئے نااہلی کا قانون بھی کالعدم قرار دے دیا۔ گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے گریڈ 21 کے 7 بیورو کریٹس کو گریڈ 22 میں ترقی نہ دینے کے خلاف کیس کا 63 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔