• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چارلی کرک ایران جنگ کے مخالف، قتل کی تحقیقات کی جائیں، جوکینٹ

کراچی (نیوز ڈیسک)امریکا میں انسداد دہشت گردی مرکز کے سابق سربراہ ’’جو کینٹ‘‘ نے انکشاف کیا ہے کہ ٹرمپ کے قریبی اتحادی اور انتہا پسند رہنما چارلی کرک ایران کیساتھ جنگ کے مخالف تھے، ان کے قتل کی تحقیقات کروائی جائیں،انہوں نے کہا کہ چارلی کرک کے قتل کی تحقیقات کو ٹرمپ انتظامیہ نے روک دیا تھا۔ممتاز صحافی ٹکر کارلسن کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں جوکینٹ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے خلاف حالیہ امریکی فوجی کارروائی کسی حقیقی دفاعی ضرورت کے تحت نہیں بلکہ بیرونی دباؤ اور سیاسی مفادات کے حصول کے لیے کی گئی۔ جو کینٹ، جنہوں نے ایران پر حملے کے خلاف احتجاجاً اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا، کا کہنا ہے کہ امریکی عوام کو ایران کے حوالے سے مسلسل گمراہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ایران کا نیوکلیئر بم بنانے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ جو کینٹ نے انٹرویو کے دوران واضح کیا کہ ایران کی جانب سے امریکا کے خلاف کسی بھی قسم کے "فوری خطرے" کی انٹیلی جنس موجود نہیں تھی۔ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور دیگر حکام کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اصل صورتحال یہ تھی کہ اسرائیل ایران پر حملے کی تیاری کر رہا تھا اور امریکی انتظامیہ کو خدشہ تھا کہ اسرائیل کے اس اقدام کے ردِعمل میں ایران امریکی اثاثوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی پالیسی سازوں نے اسرائیل کی جارحیت کے ممکنہ نتائج کو "ایران کا براہِ راست خطرہ" بنا کر پیش کیا تاکہ جنگ کا جواز پیدا کیا جا سکے۔ایران کے ایٹمی پروگرام پر بات کرتے ہوئے سابق انٹیلی جنس ڈائریکٹر نے کہا کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوئی فوری صلاحیت موجود نہیں تھی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ایران میں 2004 سے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے خلاف مذہبی فتویٰ نافذ ہے اور امریکی انٹیلی جنس کے پاس اس کی خلاف ورزی کا کوئی ثبوت نہیں تھا۔ ان کے بقول، واشنگٹن میں موجود مخصوص لابیوں، بشمول مارک لیون، مارک ڈوبوٹز اور فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز (FDD) جیسے تھنک ٹینکس نے "ایٹمی افزودگی" کو ایک نئی سرخ لکیر بنا کر پیش کیا تاکہ سفارت کاری کے راستے بند کر کے امریکا کو تصادم کی طرف لے جایا جا سکے۔جو کینٹ نے متنبہ کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے ساتھ ایک نئی جنگ میں الجھنا سراسر "پاگل پن" ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کا اپنی فوجی طاقت، خون اور دولت دوبارہ اس خطے میں جھونکنا دراصل چین کے ہاتھ میں کھیلنے کے مترادف ہے۔ چین خاموشی سے امریکا کو معاشی اور فوجی طور پر کمزور ہوتے دیکھ رہا ہے، اور اس خلا کا فائدہ اٹھا کر وہ بحر الکاہل (Pacific) میں امریکی سرحدوں کے لئے بڑا خطرہ بن کر ابھرے گا۔ٹکر کارلسن نے گفتگو کے دوران اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ امریکی خارجہ پالیسی میں گزشتہ 60 برسوں سے ایک "آہنی قانون" رائج ہے کہ جب بھی مہم جوئی ناکام ہوتی ہے، تو سزا ان لوگوں کو دی جاتی ہے جنہوں نے ابتدا میں اس کی مخالفت کی ہوتی ہے۔ انہوں نے افغانستان سے انخلا پر آواز اٹھانے والے میرین کور کے کرنل اسٹو شیلر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جو کینٹ جیسے سچے لوگوں کو بدنام کرنا دراصل ان حکام کی اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے جنہوں نے غلط فیصلے کئے۔ جو کینٹ نے زور دیا کہ امریکی خارجہ پالیسی کا واحد معیار یہ ہونا چاہیے کہ "کیا یہ فیصلہ میرے لوگوں (امریکی شہریوں) کے لیے بہتر ہے یا نہیں؟"۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر جھوٹ کی بنیاد پر فیصلے جاری رہے تو یہ امریکا کے عالمی اثر و رسوخ کے خاتمے کی ابتدا ثابت ہو سکتا ہے۔تفصیلات کے مطابق ٹکر کارلسن کو انٹرویو دیتے ہوئے جوکینٹ نے کہا کہ ایران جنگ بہت خونی ہو گی۔ مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم شاید ان کے کچھ فضائی دفاع کو شکست دے سکیں اور وہاں جا کر ایک اومہم چلا سکیں۔ لیکن پھر بھی، ہم نے دیکھا کہ عراق میں عسکری برتری ثابر کرنے کی مہم حقیقت میں طویل مدت میں کام نہیں آئی۔لہذا مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں کچھ فوری نتائج ملیں گے جن پر امریکا میں لوگ خوشی کا اظہار کریں گے۔ لیکن ایران، فارس، ہمیشہ سے ایک سلطنت رہا ہے۔ یہ موجودہ مشرق وسطی کے دوسرے تمام ممالک سے زیادہ عرصے سے موجود ہے۔ اور کچھ نہیں ہوگا۔ اگر ہم ایران کے ساتھ طویل جنگ میں شامل ہو گئے اور بری طرح الجھ گئے، تو ہم سیدھا چین کے ہاتھ میں کھیل رہے ہوں گے، کیونکہ چین اس سے زیادہ کچھ نہیں چاہتا کہ ہم اپنے فوجی و صنعتی ڈھانچے کو مشرقی یورپ، یوکرین کی جنگ میں جھونک دیں، اور پھر اپنی روایتی فوجی طاقت، اپنا خون اور اپنی دولت، دوبارہ مشرق وسطی میں لگا دیں۔ یہ بحر الکاہل کو، جو دراصل ہماری حقیقی سرحد ہے، چینی جارحیت کے لیے انتہائی کمزور بنا دے گا۔ یا چین بس خاموشی سے ہمیں معاشی طور پر خون بہاتے ہوئے دیکھے گا، جبکہ ہم مختلف محاذوں پر میدان جنگ میں بھی خون بہا رہے ہوں گے۔ یہ سراسر پاگل پن ہے۔ یہ پنڈورا باکس کھولنے کے مترادف ہے۔ اور پھر، امریکی عوام کے لیے اس میں کیا فائدہ ہے؟۔انٹرویو کے دوران تجزیہ کار نے کہا کہ جو کینٹ کو اسلام پسندوں کا آلہ قرار دینا، یا انہیں لیکر کہنا، یا یہ کہنا کہ وہ کسی ایسے شخص سے شادی شدہ ہیں جو حزب اللہ کے لیے کام کرتا ہے، جھوٹ پر جھوٹ پر جھوٹ۔ لیکن یہ سب حملے جو کینٹ کی ذات پر ہیں۔ ان کے محرکات، کردار، شخصیت، اور ان کی بیوی پر۔اور یہ سب جان بوجھ کر کیا جا رہا ہے۔ کیونکہ ان میں سے کوئی بھی اس وجہ کو نہیں چھیڑتا جس کی بنا پر انہوں نے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر کے عہدے سے استعفیٰ دیا۔ کیونکہ اگر آپ اس پر توجہ دیں، تو آپ کو ان کے سوالات کا جواب دینا پڑے گا۔ آپ کو جواب دینا پڑے گا: کیا یہ سچ ہے؟ جو کینٹ، جن کے پاس اعلیٰ ترین سطح کی انٹیلیجنس کلیئرنس تھی، جو کل تک امریکی حکومت کے اہم ترین انٹیلیجنس عہدیداروں میں سے ایک ہونے کی وجہ سے تقریباً ہر راز تک رسائی رکھتے تھے، کافی باخبر آدمی لگتے ہیں۔ کیا وہ جو کہہ رہے ہیں، وہ سچ ہے؟ یہ وہ آخری گفتگو ہے جو واشنگٹن میں کوئی کرنا چاہتا ہے، اس لیے بس ان پر حملہ کرو۔
اہم خبریں سے مزید