پشاور (ارشد عزیز ملک )خیبر پختونخوا میں معدنیات کے ٹھیکوں میں سیاسی اثرورسوخ اور بے ضابطگیوں کا بڑا انکشاف سامنے آیا ہے۔ ایک چینی کمپنی نے معاملہ وفاق کے سامنے اٹھا دیا ہے، جس کے بعد اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل SIFC نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کوخصوصی آڈٹ اور احتسابی جائزے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں ۔چینی کمپنی نے الزام لگایا ہے کہ اس نے50لاکھ ڈالرز کی غیر ملکی سرمایہ کاری کی کھدائی کا عمل مکمل کیا لیکن اس کا کنٹریکٹ منسوخ کرکے مبینہ طورپرسیاسی بنیادوں پر ایک منظور نظر کمپنی کو دے دیا گیا۔کئی سالوں سے دھکے کھاتے رہے اوراب تیار لیز کسی دوسری کمپنی کو دے دی گئی ہے ۔چینی کمپنی نے صوبے میں حکمرانی، شفافیت اور قانون کی بالادستی پر سنگین سوالات کھڑے کر دئیے ہیں ۔صوبائی حکومت نے مذکورہ لیز 5 مارچ 2026 کو منرل ٹائیٹل کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں ایک دوسری کمپنی کو دینے کے احکامات جاری کئے ہیں حالانکہ ٹونی پاک کمپنی اس منصوبے پر کروڑوں روپے لگا چکی ہے ۔