کراچی(اسٹاف رپورٹر)اردو بازار ٹریڈرز اینڈ بک سیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ساجد یوسف نے سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے تحت شائع ہونے والی درسی کتابوں کی عدم دستیابی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض ایسی کتابیں جن کی قلت کی نشاندہی کی جا رہی ہے، وہ مارکیٹ میں وافر مقدار میں موجود ہیں، تاہم متعلقہ تعلیمی اداروں میں ان کتابوں سے تدریس نہیں کی جا رہی۔ ایسوسی ایشن کے مطابق اصل مسئلہ پہلی کلاس سے نویں اور دسویں اور گیارویں بارہویں جماعت کی لازمی درسی کتب کی کمی کا ہے، جس کے باعث طلبہ اور والدین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ساجد یوسف نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اپریل میں شروع ہونے والے نئے تعلیمی سال سے قبل تمام ضروری درسی کتب کو فوری طور پر مارکیٹ میں دستیاب بنایا جائے۔