اسلام آ باد ( نیوز رپورٹر)تھانہ چکلالہ کی حدود میں کھنہ پل کے قریب علاقے میں واقع جامع مسجد امیر معاویہ اور اس سے ملحقہ دینی ادارہ اختر المدارس میں ہونے والی چوری کی واردات کو دس روز گزرنے کے باوجود تاحال ملزمان کی گرفتاری عمل میں نہ آ سکی، جس پر مدرسہ انتظامیہ اور مقامی شہریوں میں شدید تشویش اور بے چینی پائی جا رہی ہے۔تفصیلات کے مطابق 15 مارچ کو پیش آنے والے اس واقعے میں نامعلوم چور مسجد و مدرسہ سے لاکھوں روپے نقدی، قیمتی سامان، سی سی ٹی وی سسٹم اور اہم ریکارڈ لے گئے تھے۔ تاہم دس دن گزرنے کے باوجود پولیس کی جانب سے نہ تو کسی ملزم کو گرفتار کیا جا سکا ہے اور نہ ہی مسروقہ سامان کی برآمدگی ممکن ہو سکی ہے۔مدرسہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ابتدائی کارروائی کے بعد پولیس کی جانب سے تفتیش میں کوئی خاص پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی، جس کی وجہ سے اہل علاقہ میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہبی اداروں کو نشانہ بنانا ایک سنگین معاملہ ہے، لیکن اس کے باوجود ذمہ داران کی عدم گرفتاری لمحہ فکریہ ہے۔مقامی شہریوں اور علما کرام نے آئی جی پولیس پنجاب سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ پولیس کو فوری اور مؤثر کارروائی کا پابند بنایا جائے، واقعے میں ملوث ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور چوری شدہ رقم و سامان برآمد کیا جائے۔