سوچا بھی نہ تھا کہ کبھی اسرائیل کسی عالمی ادارے کو شکایت کرے گا کہ ایران کے میزائلوں سے اُسکی سویلین آبادی اور بچوں کیلئے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ اسرائیل کی وزارت خارجہ نے یونیسیف (UNICEF) کی ڈائریکٹر جنرل کیتھرین روسل کے نام ایک خط لکھا ہے ۔ 23مارچ کو لکھے جانے والے خط پر اسرائیل کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل فار یو این اینڈ انٹرنیشنل آرگنائزیشنز نینا بین عامی کے دستخط ہیں۔ خط میں یونیسیف کی توجہ ایران کی طرف سے استعمال کئے جانے والے بیلسٹک میزائلوں کی طرف دلائی گئی ہے جس میں سویلین آبادی کا بہت نقصان ہو رہا ہے ۔ خط میں بتایا گیا ہے کہ 21 مارچ کو ایران کے ایک میزائل سے نکلنے والے کلسٹربم نے ریشوں لیزیون میں ایک کنڈر گارڈن کو متاثر کیا جو خوش قسمتی سے بند تھا ۔ اسی دن اراد کے ایک رہائشی علاقے پر میزائل گرنے سے 115 سویلینز زخمی ہو گئے جن میں 18 بچے بھی شامل تھے۔ خط میں اسرائیلی شہر دیمونا پر 12 میزائل حملوں میں 60 سویلیز کے زخمی ہونے کا بھی ذکر ہے جن میں دوبچے بھی شامل تھے۔ اسرائیل کی طرف سےیونیسیف کو لکھے جانے والے خط میں یکم مارچ سے 23 مارچ تک ایران کی طرف سے حملوں میں سویلین آبادی کے دیگر نقصانات کا بھی ذکر ہے اور مطالبہ کیا گیا ہےکہ یونیسیف ایران کے میزائل حملوں کی مذمت کرے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اس خط میں اسرائیلی بچوں کے زخمی ہونے کے ذکر پر مجھے بہت افسوس ہوا۔ مجھے یاد ہے کہ جب اسرائیل نے غزہ میں اندھا دھند بمباری سے ہزاروں بچوں کو شہید کر دیا تو یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ غزہ ہزاروں بچوں کے قبرستان میں تبدیل ہو چکا ہے۔یونیسیف کی ڈائریکٹر جنرل کیتھرین روسل نے بھی بار بار اسرائیل سےاپیل کی کہ غزہ کے بچوں کا قتل عام بند کرو لیکن اسرائیل نے کسی کی نہ سنی ۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کے اس خط سے اگلے روز یونیسیف نے اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں ایک بریفنگ میں کہا کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ جنگ شروع ہونےکے بعد سے 2100 بچے زخمی ہوئے یا مارے جا چکے ہیں اور روزانہ 87 بچوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ 206 بچے ایران اور 118 لبنان میں شہید ہوئے۔ چار بچے اسرائیل میں مارے گئے اور ایک بچہ کویت میں اپنی جان سے گیا ۔ یونیسف کی یہ بریفنگ نیو یارک میں دی گئی ۔ نیو یارک امریکا میں ہے اور اسی امریکا کی بمباری سے ایران کے شہر مناب میں ایک گرلز اسکول میں سو سے زیادہ بچیاں شہید ہو گئیں۔ جب سے اسرائیل اور امریکا نے مل کر یہ جنگ شروع کی ہے صرف ایران نہیں بلکہ اسرائیل سے لبنان اور کوئت سے بحرین تک تمام اسکول بند ہیں ۔لاکھوں بچے تعلیم سے محروم ہیں ۔ کیا اس جنگ کا ذمہ دار صرف اسرائیل اور امریکا ہے ؟ جی نہیں ! اس جنگ کے ذمہ دار وہ تمام ممالک اور عالمی ادارے ہیں جو 1948 ء سے آج تک اسرائیل کی بدمعاشی پر خاموش ہیں ۔ اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے1967ء میں مسجد اقصیٰ سمیت بہت سے فلسطینی علاقوں پر قبضہ کر لیا ۔ یہ وہ علاقے تھے جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق فلسطینی ریاست میں شامل تھے ۔ اسرائیل نے ان علاقوں پر قبضہ کرنے کے بعد وہاں صیہونیوں کو آباد کرنا شروع کر دیا ۔ فلسطینیوں نے مزاحمت کی تو امریکا نے انہیں دہشت گرد قرار دیدیا ۔ پھر کئی مسلم ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا ۔ وہ او آئی سی جو 1969 ء میں مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کےردعمل میںقائم کی گئی تھی مسجد اقصیٰ کے تحفظ میں ناکام ہو گئی تو اسرائیل نے اپنی سرحدوں کو مزید وسیع کرنے کا منصوبہ بنا لیا ۔ اس منصوبے کے خلاف مسلم ممالک نے صرف مذمتی بیانات دیئے ۔ کسی نے اسرائیل کا ہاتھ روکنے کی کوشش نہ کی۔ آخر کار حماس نے اسرائیل کو روکنے کیلئے ان فلسطینی علاقوں کو آزاد کرانے کی کوشش کی جو اسرائیل نے قبضے میں لے لئے تھے ۔ آپ اسے غلط حکمت عملی کہیں یا جنونیت کہیں لیکن جو کچھ اسرائیل کرتا رہا ہے اُسے کیا کہیں گے ؟ مشرق وسطیٰ میں جو جنگ جاری ہے اسکی اصل ذمہ دار وہ نام نہاد مہذب دنیا ہے جس نے 1948ء میں اقوام متحدہ کا کندھا استعمال کر کے فلسطین کو تقسیم کیا اور اسرائیل قائم کیا ۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے دسمبر 1947 ء میں امریکی صدر ٹرومین کو خط لکھ کر کہا تھا کہ اسرائیل کے قیام سے مشرق وسطیٰ میں کبھی امن قائم نہیں ہو گا لیکن ٹرومین اسرائیل کے پیچھے کھڑا رہا ۔ کئی دہائیوں کے بعد اسرائیل اور امریکا کو پتہ چلا ہے کہ اگر اُن کے بم فلسطینی بچوں کو ٹارگٹ کر سکتے ہیں تو ایران کے میزائل بھی اسرائیلی بچوں کو غیر محفوظ بنا سکتے ہیں۔ اب پاکستان سمیت کچھ دیگر ممالک امریکا کے ساتھ مل کر اس جنگ کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں تو یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے لیکن سوال یہ ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی ضمانت کون دے گا ؟ چند ماہ قبل ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف پاکستان کے دورے پر آئے تو مجھے اُن سے ملاقات اور گفتگو کا موقع ملا۔ انہیں نومبر 2025 ء میں یقین تھا کہ اسرائیل ایک دفعہ پھر ایران پر حملہ کرے گا ۔ انہوں نے بڑے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ اسرائیل اور امریکا مذاکرات کو دھوکے کیلئے استعمال کرتے ہیں اور مذاکرات کے دوران جنگ چھیڑ دیتے ہیں ۔ اب امریکا باقر قالیباف کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔لیکن باقر قالیباف سمیت ایران کی موجودہ قیادت ٹرمپ پر بالکل بھی اعتماد نہیں کرتی ۔ کیا پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف ، ترکی کے صدر اردوان یا مصر کے صدر السیسی یہ ضمانت دے سکتے ہیں کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ جو وعدہ کریں گے اُسے ہر صورت نبھائیں گے ؟ جس ٹرمپ کا وزیر جنگ پیٹر ہیگ سیتھ مسجد اقصیٰ کو گرانے کی باتیں کرتا رہا ہے اور جس ٹرمپ کی انٹیلی جنس چیف تلسی گبارڈ پاکستان کے میزائل پروگرام کے بارے میں ڈس انفارمشن پھیلائے اُس ٹرمپ کی ضمانت کون دے سکتا ہے ؟ امریکا اور ایران میں مذاکرات پہلے بھی ہوتے رہے لیکن ان مذاکرات کو ایران نے نہیں ہمیشہ امریکا نے سبوتاژ کیا۔ ان مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے سے پہلے ایک ایسا فریم ورک بنانے کی ضرورت ہے جسکی کوئی بھی فریق خلاف ورزی نہ کرے۔ ٹرمپ نے یہ جنگ امریکی کانگریس کی منظوری کے بغیر شروع کی ہے ۔ کیا ضمانت ہے کہ ٹرمپ دوبارہ ایران کے خلاف ایسی جارحیت نہیں کرینگے ؟ یہ پہلو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اسوقت فوری سیز فائر ایران کی نہیں ٹرمپ کی زیادہ ضرورت ہے ۔ ایران لمبی جنگ کیلئے تیارہے کیونکہ ایران میں رجیم چینج کا خطرہ فی الحال ٹل چکا ۔ ٹرمپ کو اس غلط فہمی سے نکلنا ہوگا کہ سیز فائر اب امریکا کی شرائط پر ہوگا۔ٹرمپ کی حیثیت ایک جارح اور دھوکے باز کی ہے ۔ ایران کی حیثیت ایک مظلوم کی ہے جس نے اپنے دفاع کا حق استعمال کیا ۔ بین الاقوامی قانون کے تحت انصاف اُسے ملنا چاہئے جو مظلوم ہے ۔ بین الاقوامی قانون کو ٹرمپ خود ہی غیر موثر کر چکے ۔ وہ یاد رکھیں کہ ناں تو وہ یہ جنگ جیت رہے ہیں اور اب نہ ہی وہ کوئی سپر پاور رہے ہیں ۔ اُن کی شاہانہ رعونت اور خبط عظمت زوال کا شکار ہے ۔ خبط عظمت کا مقابلہ شوق شہادت سے ہے جس نے سپر پاور کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔مذاکرات ضرور ہونے چاہئیں لیکن پہلے ٹرمپ اپنے لئے کوئی ضامن تو تلاش کریں۔