• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کے حوالے سے کوئی اچھی خبر سامنے آتی ہے تو کچھ لوگ، پاکستانی ہوتے ہوئے بھی، اس میں کیڑے نکالنے لگتے ہیں، اسے جھوٹ قرار دیتے ہیں یا کسی نہ کسی انداز میں اس پر ناخوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ آخر ایسی ذہنیت کو کیا کہا جائے؟ اسی طرح، اگر پاکستان کے بارے میں کوئی بُری خبر آئے یا ملک کسی مشکل میں ہو، تو کچھ لوگ اس پر دکھی ہونے کی بجائے ایسی باتیں کرتے ہیں جیسے وہ اس نقصان کی خواہش بھی رکھتے ہیں۔ کیا یہ طرزِ فکر کسی نارمل انسان کی عکاسی کرتا ہے؟ کیا سیاسی اختلاف اس حد تک جا سکتا ہے کہ ہم اپنے ہی ملک کے نقصان پر خوش ہونے لگیں؟ حکومت کوئی بھی ہو، کیا یہ درست ہے کہ ہم اپنی سیاسی پسند اور ناپسند کی بنیاد پر پاکستان کی کامیابی یا ناکامی کا تعین کریں؟ اگر ہماری پسند کی حکومت ہو تو سب کچھ درست اور قابلِ تعریف، اور اگر ناپسندیدہ حکومت ہو تو وہی کامیابی قابلِ اعتراض بن جائے۔ یہ رویہ نہ صرف غیر منطقی ہے بلکہ قومی سوچ کیلئے نقصان دہ بھی ہے۔ اگر پاکستان کی معیشت مشکلات کا شکار ہو اور کوئی یہ خواہش کرے کہ ملک ڈیفالٹ کر جائے، تو ایسے شخص کے بارے میں کیا کہا جائے؟ کیا کوئی باشعور پاکستانی اپنے ہی ملک کے معاشی انہدام کی دعا کر سکتا ہے؟ یہ سوچ دراصل نفرت، تعصب اور انتہا پسندانہ ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے۔ اسی طرح، اگر پاکستان بھارت کے ساتھ کسی جنگ میں ہو اور ایسے وقت میں کوئی اپنی ہی فوج پر طعنہ زنی کرے یا یہ خواہش رکھے کہ پاکستانی فوج کو بھارتی فوج کے ہاتھوں شکست ہو تا کہ اُن کو جس فوجی قیادت سے اختلاف ہے اُس کے ساتھ بُرا ہو، تو یہ صرف اختلافِ رائے نہیں بلکہ ایک خطرناک ذہنی رجحان ہے۔ قومی سلامتی کے معاملات میں کم از کم ایک بنیادی یکجہتی اور وفاداری ناگزیر ہوتی ہے لیکن یہاں معاملہ بہت بگڑ چکا۔ جب پاکستان نے بھارت کو شکست دی اور ہماری افواج نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے دنیا کو متاثر کیا، تو اس پر بھی اگر کوئی خوش نہ ہو یا پاک فوج کی تعریف سے گریز کرے، تو اس رویے کو کیا نام دیا جائے؟ کیا یہ محض اختلاف ہے یا کچھ اور؟ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کسی اہم دفاعی معاہدے پر اگر کوئی ناک منہ چڑھائے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہر مثبت پیش رفت کو صرف اس لیے رد کر دینا چاہیے کہ وہ کسی مخصوص حکومت کے دور میں ہوئی ہے؟ اسی طرح، اگر افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کیلئے استعمال ہو تو اس پر خاموشی اختیار کی جائے، لیکن جب پاکستان اپنی سلامتی کیلئے کارروائی کرے تو اس پر اعتراض کیا جائے اور مخالف بیانیے کو ترجیح دی جائے تو یہ طرزِ عمل کس کی نمائندگی کرتا ہے؟ اگر کوئی یہ خواہش رکھے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ اس حد تک پھیل جائے کہ پاکستان ایک مشکل صورتحال میں پھنس جائے، تو کیا ایسی سوچ کو نارمل قرار دیا جا سکتا ہے؟ یہ ذہنیت نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ خطرناک بھی ہے۔ امریکا و اسرائیل کے ایران پر حملہ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر یہ خواہش کرنا کہ پاکستان کو ایران اور سعودی عرب میں سے کسی ایک کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ مقصد صرف یہ ہو کہ پاکستان کی سول اور فوجی قیادت کیلئے مشکلات پیدا ہو جائیں، تو ایسی سوچ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آج جب دنیا میں یہ خبریں زیرِ بحث ہیں کہ پاکستان عالمی سطح پر اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمہ کیلئے ثالث کے طور پر اس کا نام لیا جا رہا ہے تو اس پر بھی اگر کوئی ناخوش ہو اور یہ خواہش کرے کہ یہ کوششیں اس لیے کامیاب نہ ہوں کہ کیوں کہ اس کا کریڈٹ پاکستان کی موجودہ سیاسی و عسکری قیادت کو مل جائے تو کیا ایسا شخص پاکستان کا خیر خواہ ہو سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص پاکستان کی خوشی میں خوش ہونے اور اس کے غم میں غمگین ہونے کے بجائے ایسا ردعمل دے جو کسی دشمن ملک کی سوچ کا عکاس ہو، تو اس کی ذہنی کیفیت پر سوال اٹھنا فطری بات ہے۔ یہ رویہ کسی صحت مند ذہن کی علامت نہیں ہو سکتا۔ ایسے افراد کا مسئلہ محض سیاسی اختلاف نہیں بلکہ ایک گہری ذہنی اور فکری خرابی ہے۔ ایسے لوگ نارمل نہیں ہو سکتے اور انہیں سنجیدگی سے اپنی سوچ کا جائزہ لینا چاہئے۔

تازہ ترین