• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

غیر حاضری اور تاخیر کے سبب تنخواہ میں کٹوتی کے قوانین کی شرعی حیثیت

تفہیم المسائل

سوال: ایک ادارے میں حاضری کے حوالے سے قانون رائج ہے کہ ایک گھنٹہ تاخیر سے آنے پر تنخواہ سے 1/4حصہ کاٹا جائے گا، تین دن متواتر تاخیر کی صورت میں ایک پورے دن کی تنخواہ کٹے گی۔

مقررہ تعطیل /سرکاری تعطیل کے ساتھ ایک دن مزید چھٹی کرنے کی صورت میں دو دن کی چھٹی شمار ہوگی، شرعی اعتبار سے یہ درست ہے یا اس میں کوئی تبدیلی کرنی چاہیے؟ ( ناصر محمود، کراچی)

جواب: کسی بھی ادارے کے ملازمین کی حیثیت شرعی طور پر اجیر خاص کی ہوتی ہے کہ وہ وقت کے پابند ہوتے ہیں اور اجیر خاص ملازمت کے مقررہ وقت پر حاضر رہنے سے اجرت (تنخواہ) کا مستحق ہوتا ہے، اگر وہ ملازمت کے اوقات میں حاضر نہیں رہا یا تاخیر سے آیا تو اس غیر حاضری اور تاخیر کے بقدروہ تنخواہ کا مستحق نہیں ہوتا، اس معاملے کا اصل تقاضا تو یہ ہے کہ جب ملازم جائے ملازمت پر حاضر نہ ہو تو اس کا معاوضہ بھی نہ لے یا جتنی تاخیر سے آئے اس تاخیر کے بقدر تنخواہ وصول نہ کرے، لیکن شریعت نے طرفین کو اختیار دیا ہے کہ تنخواہ کے بارے میں باہمی رضامندی سے چھٹی یا تاخیر کی صورت میں جو جائز ضابطہ بناکر آپس میں طے کرلیں اس کی شرعاً بھی اجازت ہوگی۔

علامہ علاؤالدین حصکفی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’اجیر خاص وہ ہوتاہے، جو ایک مُعیّن وقت میں کسی ایک شخص کے کام کو انجام دے، ایسا شخص جب اپنی خدمات آجر کے سپرد کردے، تو مقررہ اُجرت کا حق دار ہوجاتا ہے، خواہ اُس نے کام نہ کیا ہو (یعنی آجر نے اس دوران اُس سے کام نہ لیا ہو)، جیسے کسی کو ماہوار تنخواہ پر نوکر رکھ لیا ہو (اور وہ ڈیوٹی پر موجود ہو، خواہ اُس سے کام لیا گیا ہو یا نہ، وہ تنخواہ کاحق دار ہوگا)‘‘۔

مزید لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ اور اجیر خاص کویہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی اور کا کام کرے، اگر وہ عمل کرے گا، تو جس قدر اس نے عمل کیا ہوگا، اُسی قدر اس کی اجرت میں کمی کی جائے گی، بحوالہ:

’’ فتاوَی النّوازل‘‘ ، (ردالمحتار علیٰ الدرالمختار ،جلد9،ص:81)‘‘۔ امام اہلسنّت امام احمد رضاقادری ؒسے سوال کیا گیا: ’’ ٹیچر نے کچھ وقت پڑھانے کے بعد جس کے یہاں پڑھاتا تھا اس سے چھٹی لینا چاہی تو اس نے کہا کہ اپنا پورا وقت پڑھاؤ ورنہ آدھے دن کی تنخواہ کاٹوں گا، تو اس شخص کا آدھے دن کی تنخواہ کاٹنا درست ہے یا نہیں‘‘۔

آپ نے جواب میں لکھا: ’’اس روز جتنے گھنٹے کام میں تھا، اُن میں جس قدر کی کمی ہوئی صرف اتنی ہی تنخواہ وضع ہوگی، ربع ہو تو ربع، یا کم زیادہ جس قدر کی کمی ہوئی صرف اتنی تنخواہ وضع ہوگی، مثلاً چھ گھنٹے کام کرنا تھا اور ایک گھنٹہ نہ کیا تو اس دن کی تنخواہ کا چھٹا حصہ وضع ہوگا ،زیادہ وضع کرنا ظلم ہے،(فتاوی رضویہ، جلد19، صفحہ 516)‘‘۔

پس اجیر خاص کے ذمے طے شدہ وقت پر موجود ہونا اور اسی طرح وقت کی پابندی کرنا لازم ہے، اور اجیر خاص اگر وقت سے پہلے چلا جائے یا وقت پر نہ آئے، تو ادارے کے لیے صرف یہ جائز ہے کہ اسی کوتاہی کے بقدر تنخواہ سے کٹوتی کرے، نہ یہ کہ پورے دن کی تنخواہ کاٹ لی جائے، ایک گھنٹہ تاخیر پر صرف ایک گھنٹے کی اجرت منہا کی جائے، چوتھائی حصہ کاٹنا زیادتی ہے۔ اسی طرح تین دن متواتر تاخیر کی صورت میں ایک پورے دن کی تنخواہ کی کٹوتی بھی ظلم ہے، جب تاخیر کے بقدر کٹوتی ہوچکی تو مزید کٹوتی کا کیا جواز ہے۔

اگر شرائطِ ملازمت میں یہ شامل ہے کہ تعطیل کے ایام سے پہلے یا بعد میں اگر کوئی اضافی چھٹی کرے گا ،تو اُس چھٹی سمیت تعطیل کے ایام کی بھی تنخواہ کاٹی جائے گی یا اس پر عُرف اور تَعامُل (General Practice)ہے، تو درست ہے اور مشروط کی طرح ہے۔

علامہ محمد خالدالاتاسی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’جو (لوگوں کا) عرف ہو، وہ شرط کے قائم مقام ہے، یعنی جو عادت لوگوں کے درمیان معروف ہو، اگرچہ صریحاً ذکر نہ کی جائے، وہ بمنزلہ صریح کے ہوتی ہے، کیونکہ عرف اُس پر دلالت کرتا ہے ‘‘۔(شرح المجلّۃ، مادّہ 43-44 ، جلد1،ص:100)‘‘۔ لہٰذا جو عرف بن جائے، وہ مشروط کی طرح ہے۔

پس شرائط ملازمت میں یہ درج کردیاگیا ہے یا تعطیلات کے بارے میں کسی ادارے یا محکمے میں یہ ضابطہ طے شدہ ہے کہ اختتام ہفتہ (Weekend) یا تعطیلات عیدین یا ان مواقع پر جو چھٹیاں پہلے سے طے شدہ یا مقرر ہوتی ہیں یا جنہیں Gazetted Holidaysکہا جاتا ہے، اُن سے ایک دِن پہلے اور ایک دِن بعد جو چھٹی کرے گا، تو یہ سرکاری چھٹیاں بھی ذاتی رخصت شمار ہوں گی، تو یہ درست تسلیم کیاجائے گا۔

الغرض آپ کے بیان کے مطابق اگر مستاجر نے شرائط ملازمت میں پہلے سے یہ ضابطہ طے کررکھا ہے، یعنی مشروط ہے یا مشروط تو نہیں ہے بلکہ معہود (Understood) ہے، یعنی عرصے سے یہ معلوم ہے اور ملازمین نے اسے قبول کررکھا ہے، تو وہ معتبر ہوگا اور اگر مشروط یا معہود نہیں ہے بلکہ یک طرفہ طورپر مُسلط کردیا جاتا ہے، تو امام اہلسنّت کی تصریح کے مطابق مستاجر صرف اتنی ہی تنخواہ وضع کرنے کا مجاز ہوگا، جتنا وقت وہ تاخیر سے آیا ہے اور ایک زائد اختیاری رخصت کے سبب ہفتہ وار چھٹی کی تنخواہ وضع کرنا بھی درست نہیں ہوگا۔

بعض اصول انتظامی ضرورت کے تحت اپنائے جاتے ہیں، ان کے بغیر نظم قائم نہیں رہتا، جیسا کہ کراچی میں سرکاری ونیم سرکاری اداروں میں یہ مشاہدہ میں آیا ہے کہ اگر دو سرکاری تعطیلات ایک ساتھ آجائیں یا کسی سرکاری تعطیل کے ساتھ ہفتہ اتوار کا دن آجائے، تو اندرون سندھ سے ملازمت کے لیے آئے ہوئے لوگ یہ چھٹیاں اپنے گاؤں یا علاقے میں گزارنے کے لیے ایک دن پہلے اور ایک دن بعد اضافی چھٹی کرلیتے ہیں اور یہ کثرت سے معمول بن گیا ہے۔ اگر اس اصول سے بہتری آسکتی ہو تو سرکاری اداروں میں بھی ایسے قوانین کا نفاذ، اُس پر عمل اور حاضریوں کے شفاف ریکارڈ کا نظم قائم کرنا چاہیے۔

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

darululoomnaeemia508@gmail.com

اقراء سے مزید