• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

الیکٹرانک میڈیا کے آلات کی خریدوفروخت ومرمت کا حکم … !

تفہیم المسائل

سوال: آج کل الیکٹرانک میڈیا کا دور ہے، جس میں ٹیلیویژن، ڈش، پروجیکٹر، ڈی وی ڈی، میموری کارڈ اور دیگر اشیاء کا کاروبار ہوتا ہے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ ان اشیاء کی خریدوفروخت اور اِن کی مرمت کا کام کرنا کیسا ہے؟ (محمد صدیق مدنی، چمن)

جواب: جن اشیاء کو خیر اور شَر، جائز وناجائز دونوں مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہو، اُن کی خریدوفروخت اور مرمت پر حرمت کا حکم نہیں لگے گا، بلکہ اُن کا جائز استعمال جائز اور ناجائز استعمال ممنوع ہوگا، الغرض شریعت کا حکم نفسِ شے پر نہیں، بلکہ استعمال پر ہوگا۔

مفتی وقارالدین ؒ سے سوال کیا گیا:’’ ریڈیو، ٹی وی، وی سی آر اور وی سی پی وغیرہ سائنس وٹیکنالوجی کے آلات کی مرمت کرنا اور ان کے ذریعے روزی کمانا جائز ہے؟

آیا یہ کمائی حلال کی کمائی کہلائے گی؟‘‘آپ نے جواب میں لکھا: ’’ سوال میں جن چیزوں کا ذکر ہے، یہ سب مشینی آلات کے قبیل(قسم) سے ہیں۔ اُن کے جائز وناجائز ہونے کا حکم فی نفسہٖ اُن اشیاء پر نہیں، بلکہ اُن کے استعمال پر ہوتا ہے۔ اُن کا جیسااستعمال ہوگا، ویسا ہی حکم ہوگا ‘‘۔ مزید لکھتے ہیں:’’ ریڈیو اور ٹی وی مشینی آلات ہیں، اُن سے جائز کام بھی لیے جاتے ہیں اور ناجائز کام بھی۔

یہ صرف حرام کام کے لیے استعمال نہیں ہوتے اور نہ محض غلط کاموں کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ جس طرح چھری اور بندوق وغیرہ جیسے آلات سے جہاد بھی کیا جاتا ہے اور اپنے ذاتی کاموں اور شکار کے لیے بھی استعمال کیے جاتے ہیں اور اُنہی سے انسان کو قتل کرنے والا فعلِ قبیح بھی کیاجاتا ہے۔

لہٰذا جو آلات صرف معصیت کے لیے متعین نہ ہوں، ان کا بنانا اور مرمت کرنا جائز ہے۔ تو ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی مرمت کرنا بھی جائز ہے۔ اسی طرح اس کی مرمت کی اجرت بھی حلال ہے، (وقارالفتاویٰ ، جلداول ،ص:218-219)‘‘۔

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

darululoomnaeemia508@gmail.com

اقراء سے مزید