آپ کے مسائل اور ان کا حل
سوال: ہمارے ہاں کچھ احباب اپنے آپ کو امیر دعوت تبلیغی جماعت کہلواتے ہیں، عصر کی نماز کے بعد تعلیم کا فریضہ بھی ادا کرتے ہیں، پیش امام کی غیر موجودگی میں جماعت بھی کرواتے ہیں، مگر بد قسمتی سے صبح کی نماز مسجد میں ادا نہیں کرتے اور جب ان سے سوال کیا جائے تو لڑائی جھگڑا کرتے ہیں کہ تمہیں کیا مسئلہ ہے؟ ہماری مرضی ہے۔
دوسرا ہمارے محلے کے چند طلبہ حافظِ قرآن ہیں اور باقاعدہ درسِ نظامی پڑھ رہے ہیں، حسبِ معمول جمعرات والے دن مدرسے سے گھروں کو لوٹ آتے ہیں اور جمعہ والے دن مدرسے میں واپس جاتے ہیں۔ یہ بچے اور ان کے والدِ محترم جمعہ والے دن صبح کی نماز میں مسجد میں نہیں آتے۔
جب کہ مدرسے میں یہی طلبہ باقاعدگی سے جماعت کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جب یہ طلبہ گھر پر ہوتے ہیں تو والدین ان کو مسجد میں نہیں بھیجتے۔ ایسے بچوں کو بعد میں عادت پڑ جاتی ہے نماز سے غیر حاضری کی۔ دونوں مسئلوں کا حل قرآن و احادیث کی روشنی میں بتا دیں۔
جواب: مسلمان کو حکم ہے کہ وہ دوسرے مسلمان کے بارے میں اچھا گمان رکھے، کسی کی ٹوہ میں لگنا اور اس کے عیوب کی جستجو میں لگے رہنا بالکل درست نہیں، اللہ تعالیٰ نے ’’وَلَا تَجَسَّسُوْا‘‘ (ترجمہ: اور بھید نہ ٹٹولو کسی کا۔ موضح القرآن) فرما کر جستجو اور ٹوہ میں لگنے کو منع فرمایا ہے، نیز ’’وَلَاتَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ‘‘ (ترجمہ: اور نہ پیچھے پڑ جس بات کی خبر نہیں تجھ کو۔ (موضح القرآن) کا حکمِ ربانی کسی کی پوشیدہ باتوں کے پیچھے پڑنے سے روکتا ہے، نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ کسی مسلمان کے عیب تلاش نہ کرو، کیوں کہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے عیب ڈھونڈتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اس کے عیوب کے درپے ہوجاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ جس کے عیوب کے درپے ہوجائیں اسے ذلیل و رسوا کردیتے ہیں اگرچہ وہ اپنے گھر کے اندر ہو۔ (سنن الترمذي، أبواب البر و الصلۃ، باب ما جاء في تعظيم ج: 4، ص: 378 ط: دار الغرب الاسلامي) لہٰذا آپ مذکورہ دونوں مسائل میں ان دونوں طبقوں کے بارے میں نیک گمان رکھیں، ممکن ہے وہ دوسری مسجد یا مصلّے میں جماعت سے نماز ادا کرتے ہوں۔
اگر کسی کی کوتاہی آپ کے سامنے آئے تو اسے تنہائی میں خیر خواہی کے جذبے سے ان کے مقام و مرتبے کا لحاظ رکھتے ہوئے اور حکمت و بصیرت سے سمجھائیں، ایسا کرلینے کے بعد آپ کی ذمہ داری ادا ہوجائے گی، کیوں کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنفُسَكُمْ ۖ لَا يَضُرُّكُم مَّن ضَلَّ اِذَا اهْتَدَيْتُمْ‘‘ (ترجمہ)اے ایمان والو ! تم پر لازم ہے فکر اپنی جان کا، تمہارا کچھ نہیں بگاڑتا جو کوئی بہکا، جب ہوئے تم راہ پر۔ (موضح القرآن)
اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
iqra@banuri.edu.pk