لاہور کے علاقے ڈیفنس میں 19 کروڑ روپے مالیت کے ڈکیتی کیس میں اہم پیش رفت سامنے آ ئی ہے، گاڑی کی نمبر پلیٹ تبدیل کرنے کے باوجود ملزمان سیف سٹی کیمروں سے پہچانے گئے۔
ملزمان نے واردات کے بعد گاڑی کی نمبر پلیٹ تبدیل کی اور براستہ موٹروے پشاور چلے گئے، ایک دن بعد اسی گاڑی پر واپس آئے تو فیروز پوروڈ پر پولیس سے مقابلہ ہوگیا، اس پولیس مقابلے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظرعام پر آ گئی۔
پولیس کے مطابق کار سوار 4 ڈاکوؤں نے 14 مارچ کو ڈیفنس میں واردات کی تھی۔ انہوں نے مالک مکان کی گاڑی کی نمبر پلیٹ اپنی گاڑی کو لگائی اور براستہ موٹروے ولی انٹرچیج سے اتر کر پشاور چلے گئے۔
وہی ڈاکو 15 مارچ کو اسی گاڑی پر اوریجنل نمبر پلیٹ لگا کر دوبارہ لاہور آئے تو فیروز پور روڈ پر سیف سٹی کے کیمروں سے چھُپ نہ سکے، سیف سٹی اتھارٹی کی اطلاع پر ڈی آئی جی فیصل کامران نے علاقے کی ناکہ بندی کروا دی۔
سی سی ٹی وی میں دیکھا جاسکتا ہے کہ 16 مارچ رات 12 بج کر 33 منٹ پر گجو متہ کے علاقے میں پولیس ٹیم سڑک پر کھڑی ہے، ناکے پر کھڑے پولیس اہلکار سفید رنگ کی گاڑی کو رُکنے کا اشارہ کرتے ہیں لیکن گاڑی تیز رفتاری سے گزر جاتی ہے، پولیس کے تعاقب پر ملزمان چلتی گاڑی سے فائرنگ کرتے ہیں، کچھ دور جا کر پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوتا ہے، جس میں ایک ڈاکو ہلاک اور دوسرا زخمی ہوجاتا ہے۔
ہلاک ڈاکو کی شناخت زازئی خان نام سے ہوتی ہے جبکہ باقی ملزم زخمی ساتھی کو لے کر فرار ہو جاتے ہیں۔
زخمی ساتھی سمیت تینوں ڈاکو کاہنہ کے علاقے سے گاڑی چھینتے ہیں اور براستہ جی ٹی روڈ جہلم اپنے کسی واقف کار کے ہاں پہنچ جاتے ہیں، پولیس وہاں بھی ریڈ کرتی ہے، فائرنگ کا تبادلہ ہوتا ہے، ایک معمر شخص ہلاک ہو جاتا ہے، لیکن ڈاکو فرار ہو جاتے ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔