• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قارئین !مشرق وسطیٰ ایک بار پھر ایک خطرناک موڑ پر کھڑا ہے جہاں حالات تیزی سے ایسی سمت بڑھ رہے ہیں جو وسیع تر تباہی اور عالمی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔ بظاہر امن اور استحکام کی باتیں کی جارہی ہیں،مگر عملی اقدامات اسکے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ ٹرمپ کی پالیسیوں کو اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ دنیا کو ایک نئے عالمی تصادم کی طرف دانستہ دھکیلا جا رہا ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی جارحانہ اور دہشتگردانہ حکمت عملی نے پورے خطے کو عدم استحکام کی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت حالات کو عرب دنیا اور ایران کے درمیان براہ راست تصادم میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ خلیجی خطے کی بعض اہم شخصیات جن میں قطر کے سابق وزیر اعظم بھی شامل ہیں اس خدشے کا اظہار کر چکی ہیں کہ اگر کشیدگی کو نہ روکا گیا تو یہ ایک بڑی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔پاکستان ابتدا سے اس خطرے کو بھانپتے ہوئے مصالحتی کردار اداکرتا آیا ہے اور مسلسل یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ مسلم ممالک کسی اندرونی جنگ میں نہ الجھیں۔ یہی وجہ ہے کہ شدید اشتعال انگیزی کے باوجود عرب ریاستوں نے اب تک انتہائی محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔ دوسری جانب ایران کی جانب سے بارہا یہ یقین دہانیاں سامنے آئیں کہ وہ خطے میں کشیدگی بڑھانانہیں چاہتا،مگر زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ حساس معاشی اہداف کو نشانہ بنانے جیسے اقدامات نہ صرف علاقائی استحکام کے خلاف ہیں بلکہ خود ایران کیلئے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ بعض مواقع پر ان کارروائیوں کو فالس فلیگ قرار دیا گیا، جس سے یہ شبہ مزید مضبوط ہوتا ہے کہ کوئی پوشیدہ ہاتھ حالات کو بگاڑنے میں مصروف ہے ۔ ادھر سعودی عرب کی جانب سے سفارتی سطح پر سخت فیصلے بھی ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب صبر اور حکمت کی زیادہ ضرورت تھی۔ ایسے اقدامات وقتی طور پر دباؤ کا اظہار تو ہو سکتے ہیں، مگر طویل المدتی طور پر یہ کشیدگی میں اضافہ کرتے ہیں اور مکالمے کے دروازے بند کر دیتے ہیں۔ اس طرح دونوں اطراف کے اقدامات ملکر ایک ایسا ماحول بنار ہے ہیں جہاں غلط اندازے کسی بڑے تصادم کو جنم دے سکتے ہیں۔ یہ امر بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ امریکا اور اسرائیل کی سازشوں اور دہشتگردی کا بنیادی ہدف خطے کو مسلسل عدم استحکام میں رکھنا ہے تا کہ ان کے اسٹر ٹیجک مفادات محفوظ رہیں۔ اگر یہ کشیدگی عرب اور ایران کے درمیان بر اہ ر است جنگ میں بدلتی ہے تو اس کا سب سے بڑا فائدہ اسرائیل کو ہو گا، جبکہ مسلم دنیا مزید تقسیم اور کمزور ہو جائے گی۔ ایسے نازک مرحلے پر ترکی اور پاکستان جیسے ممالک کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ سفارتی کوششیں تیز کریں۔ ایران اور سعودی عرب دونوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ با ہمی تصادم کم از کم ان دونوں میں سے کسی کے مفاد میں نہیں۔ اگر خدانخواستہ یہ آگ بھڑک اٹھی تو اسے بجھانا کسی کے بس میں نہیں رہے گا اور اس کے اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ ایران سعودی عرب اور تمام مسلم ممالک کو چاہئے کہ جذبات کے بجائے دانش مندی سے کام لیں اور ایسے کسی بھی رد عمل کا حصہ نہ بنیں جو اسرائیلی کے مفادات میں ہو ۔

دوسری جانب ایک اہم بات یہ سامنے آئی ہے کہ صدر ٹرمپ کے ایران پر حملے روکنے کے حالیہ بیان کو پاکستان کی سفارتی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے ترکیہ اور مصر کے ساتھ ملکر مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کیلئے اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے۔ گزشتہ 2روز کے دوران تینوں ممالک نے امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کی ترسیل کے ذریعے بیک چینل سفارتکاری کو فعال رکھا جسکا مقصد ممکنہ تنازع کو روکنا اور حالات کو قابو میں رکھنا ہے۔ پاکستان کی جانب سے یہ سفارتی کوششیں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی فعال قیادت اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی اسٹرٹیجک سطح پرEngagements کا مظہر ہیں جن کا محور خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ پاکستان کی بہترین ڈپلومیسی کو مختلف حلقوں کی طرف سے پذیرائی ملی ہے۔ پاکستان نے اس کشیدگی کے دوران حالات کی حساسیت کو مد نظر رکھتے ہوئے متوازن اور تعمیری خارجہ پالیسی اختیار کی اور تمام اہم شراکت داروں سے مثبت روابط کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ادھر، برطانوی اخبارفنانشل ٹائمزنے دعویٰ کیا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اتوار کو امریکی صدر ٹرمپ سے بات چیت کی۔ برطانوی اخبار نے لکھا ہے کہ پاکستان خود کو ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کیلئے ایک مرکزی ثالث کے طور پر پیش کررہاہے۔ جنگ کے خاتمے کیلئے پاکستان اپنی عسکری قیادت کے ایران کے ساتھ تعلقات اور ٹرمپ کے ساتھ خوشگوار روابط کو استعمال کر رہا ہے۔پاکستان نے آنے والے دنوں میں اعلیٰ امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان ممکنہ مذاکرات اسلام آباد میں کرانے کی پیشکش کی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اتوار کو فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی صدر ٹرمپ سے بات چیت کی جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر سے گفتگوکی۔ یہ بات چیت تقریباً اسی وقت ہوئی جب ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر یہ اعلان کیا کہ وہ ایران کے بجلی گھروں کو تباہ کرنے کی دھمکی کو مؤخر کر رہے ہیں کیونکہ تہران کے ساتھ بہت مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت ہو رہی ہے۔دنیا کی تاریخ میں بعض لمحے ایسے آتے ہیں جب سفارتی کوشش بڑی تباہی کو روک لیتی ہے۔ آج، جب مشرق وسطیٰ جنگ کی آگ میں جھلس رہا ہے، پاکستان نے اپنی خاموش لیکن مؤثر سفارتکاری سے دنیا کو چونکا دیا ہے۔

تازہ ترین