• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ سال جب پاکستان نے بھارت کو جنگ میں عبرتناک شکست دی تو یقیناً وہ ہماری زندگیوں کی شاید سب سے بڑی خوشی تھی۔ اب جب کہ امریکا و اسرائیل کی ایران پر مسلط کی گئی جنگ سے پیدا ہونے والی صورتحال نے پوری دنیا کو پریشان کر دیا ہے، پاکستان دنیا کے لیے امن کی امید بن کر ابھرا ہے جو بحیثیت پاکستانی ہمارے لیے یقیناً ایک فخر کی بات ہے۔ جیسا کے میں نے اپنے گزشتہ کالم ’’وہ کون لوگ ہیں‘‘ میں لکھا تھا کہ ہم میں کچھ لوگ اپنی سیاسی پسند ناپسند کی وجہ سے پاکستان کی خوشی میں خوش اور دکھ میں دکھی ہونے کی بجائے ایسا رویہ اپنائے ہوئے ہیں جو کسی پاکستانی کا نہیں ہو سکتا۔ ایسے لوگوں کو سمجھانا چاہیے، اُن کے لیے دعا کرنی چاہیے کیوں کہ آخر وہ ہیں تو ہمارے اپنے۔ اگر اپنی سیاسی وابستگی کی وجہ سے اُن کی سوچ پر پردہ پڑ گیا ہے تو اُس پردے کو ہٹانے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے سب سے اہم ذمہ داری متعلقہ سیاسی جماعت کی قیادت کی ہے۔ میری خواہش ہےکہ نفرت، گالم گلوچ، جھوٹ اور بغض کی سیاست سے پاکستان کو محفوظ کیا جا سکے۔ میرے گزشتہ کالم کے جواب میں اسی سوچ کے حامل کئی لوگوں نے توقع کے مطابق مجھ پر گالم گلوچ ہی کی ۔ شاید چند ہی ایسے افراد ہوں گے جنہوں نے تہذیب کے دائرے میں رہ کر اختلاف میں اپنا نقطہ نظر بیان کیا۔ بہرحال یہ ہمارے اپنے لوگ ہیں اور چاہے ان کا ردعمل اور رویہ جیسا بھی ہو یہ ہمارے گھر کی لڑائی ہے۔ آج نہیں تو کل یہ لوگ سمجھ جائیں گے۔

جہاں تک ہمارے دشمنوں خاص طور پر بھارت کا معاملہ ہے تو وہاں تو اُنہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کریں۔ وہ سمجھ پا رہے ہیں نہ برداشت کر پا رہے کہ پاکستان کو دنیا میں اتنی عزت کیوں اور کیسے مل رہی ہے۔ اُن کا میڈیا پاکستان کو ہی ڈسکس کر رہا ہے۔ اُن کے اینکرز کے ناک منہ سے دھواں نکل رہا ہے۔ پروپیگنڈا بھی کرتے ہیں، جھوٹ بھی بولتے ہیں لیکن اس کے باوجود کوئی نہ کوئی مہمان یا میزبان ٹی وی اسکرین پر آ کر یہ مانتا ہے کہ پاکستان بہت آگے نکل گیا جبکہ بھارت کی کوئی اہمیت ہی نہیں رہی۔ کئی لوگ پاکستان کی عالمی شہرت اور امن کے حصول کیلئے اس کی کوششوں سے اپنا دماغی توازن ہی کھو بیٹھے ہیں اور کچھ تو بائولے بھی ہو چکے ہیں۔ اگر ایسی حالت اور اس بائولے پن کو دیکھنا ہے تو پھر پاکستان کی امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے ثالثی کی پیشکش پر انڈین وزیر خارجہ جے شنکر کا حالیہ بیان ہی آپ پڑھ لیں۔ یقیناً آپ نے یہ پڑھا بھی ہو گا۔ جو زبان بھارتی وزیر خارجہ نے استعمال کی اُس پر جے شنکر کی تھو تھو ہو رہی ہے۔ جے شنکر کا بیان سرحد کے دونوں جانب بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ انڈین وزیرِ خارجہ کے اس بیان پر پاکستانی وزارتِ خارجہ کا ردِعمل بھی سامنے آیا ہے جس میں ترجمان ظاہر اندرابی نے کہا کہ ’ایسے غیر سفارتی بیانات گہری مایوسی اور جھنجھلاہٹ کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستان اس قسم کی بیان بازی اور بڑھکیں مارنے پر یقین نہیں رکھتا۔ ہمارا طرزِ عمل تحمل، شائستگی اور وقار پر مبنی ہے نہ کہ محض بیان بازی پر۔‘ میں بھی یہی سمجھتا ہوں کہ بھارت کے بائولے پن پر ہمیں تہذیب اور شائستگی کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ہمیں دنیا کے

امن کیلئے اپنی کوششوں پر توجہ مزکور رکھنی چاہیے۔ بھارت اور پاکستان کے دشمنوں کو جلنے مرنے دیں۔

تازہ ترین