• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اقوامِ متحدہ کے فورم پر پنجاب کا انسدادِ انتہا پسندی ماڈل قومی سطح پر مثالی قرار

لاہور (آصف محمود بٹ)اقوامِ متحدہ کے فورم پر پنجاب کا انسدادِ انتہا پسندی ماڈل قومی سطح پر مثالی قرار۔ ڈیٹا پر مبنی حکمتِ عملی، مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچہ ، جامع ایکشن پلان سے ماہرین متاثر ، سندھ کی پنجاب ماڈل اپنانے میں دلچسپی۔ملک میں کمزور طرزِ حکمرانی،بڑھتی ہوئی غربت، نوجوانوں کی بے روزگاری اور مذہبی بیانیے کا غلط استعمال انتہا پسندی کی بڑی وجوہات قرار۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے انسدادِ منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) کے زیر اہتمام کراچی میں منعقدہ پالیسی ڈائیلاگ میں پنجاب کے انسدادِ پرتشدد انتہا پسندی (CVE) ماڈل کی جامع، تفصیلی اور ڈیٹا پر مبنی پیشکش نے شرکاء کو بے حد متاثر کیا جسے قومی سطح پر ایک قابلِ تقلید اور مؤثر فریم ورک قرار دیا ہے۔ سندھ نے پنجاب ماڈل اپنانے میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے اور اسے قابلِ عمل اور مؤثر فریم ورک قراردیا ہے۔پنجاب کی نمائندگی سنٹر آف ایکسیلینس برائے انسدادِ انتہا پسندی کے ڈپٹی کوآرڈی نیشن افسر ڈاکٹر احمد خاور شہزاد نے کی سندھ کے سی وی ای فریم ورک کے لیے منعقدہ یو این او ڈی سی اسٹریٹجک پلاننگ ورکشاپ میں پنجاب کے جدید اور مربوط گورننس ماڈل کو تفصیل سے پیش کیا۔ اس موقع پر سندھ سے تعلق رکھنے والے ماہرینِ تعلیم، پالیسی ساز، سکیورٹی حکام اور ادارہ جاتی سربراہان نے اس ماڈل کو سراہتے ہوئے اسے عملی تبدیلی لانے کی بھرپور صلاحیت کا حامل قرار دیا۔ڈاکٹر شہزاد نے ورکشاپ کے شرکا کو بتایا کہ پنجاب نے انسدادِ انتہا پسندی کے لیے ایک کثیرالجہتی نظام تشکیل دیا ہے، جس میں قانون سازی، ادارہ سازی، آپریشنل حکمت عملی اور پالیسی سازی کو یکجا کیا گیا ہے۔ یہ نظام پنجاب انسدادِ انتہا پسندی ایکٹ 2025 کے تحت تشکیل دیا گیا، جس کے ساتھ تین سالہ ایکشن پلان (2025-28) اور ایک وسیع اسٹریٹجک روڈ میپ بھی ترتیب دیا گیا ہے، جو قومی اور بین الاقوامی فریم ورکس سے ہم آہنگ ہے۔پنجاب کی طرف سے انتہا پسندی کی وجوہات کا نہایت باریک بینی سے تجزیہ پیش کیا گیا جس کے مطابق پاکستان میں کمزور طرزِ حکمرانی ایک بنیادی مسئلہ ہے جہاں پبلک سیکٹر کی کارکردگی کا اسکور منفی 0.75 ہے جبکہ بدعنوانی کے انڈیکس میں ملک 180 میں سے 133 ویں نمبر پر ہے۔ سماجی و معاشی عوامل میں شرح خواندگی تقریباً 62 فیصد، 64 فیصد آبادی کا 30 سال سے کم عمر ہونا، نوجوانوں میں 11 سے 12 فیصد بے روزگاری اور 38 فیصد آبادی کا کثیرالجہتی غربت کا شکار ہونا شامل ہے۔نظامِ انصاف کی کمزوریوں کو بھی انتہا پسندی کے فروغ میں اہم عنصر قرار دیا گیا جہاں 22 لاکھ 60 ہزار سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں اور مقدمات کے فیصلے میں 8 سال تک کا عرصہ لگ جاتا ہے۔ اسی طرح 37 لاکھ افغان مہاجرین جن میں 24 لاکھ بغیر دستاویزات کے ہیں معاشرتی دباؤ میں اضافہ کرتے ہیں۔ مدارس کی تعداد 38 ہزار سے 40 ہزار کے درمیان بتائی گئی، جن میں سے 20 ہزار سے زائد غیر رجسٹرڈ ہیں اور تقریباً 40 لاکھ طلبہ زیر تعلیم ہیں۔سنٹر آف ایکسیلینس برائے انسدادِ انتہا پسندی پنجاب کی طرف سے مذہبی پلیٹ فارمز اور ڈیجیٹل اسپیس کے غلط استعمال کو بھی انتہا پسندی کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ قرار دیا گیا۔ پنجاب میں تقریباً 60 ہزار مساجد موجود ہیں جہاں لاؤڈ اسپیکر کے غلط استعمال کے حوالے سے سالانہ 6 ہزار مقدمات درج ہوتے ہیں، جبکہ سائبر ہیٹ سے متعلق 15 ہزار شکایات ہر سال سامنے آتی ہیں۔فرقہ واریت کو ایک گہرے اور تاریخی مسئلے کے طور پر بیان کیا گیا، جہاں 1980ء کی دہائی سے اب تک 200 ے زائد تنظیمیں سرگرم رہی ہیں اور 4 ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں، جن کا مرکز جنوبی پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے بعض علاقے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید