اسلام آباد (محمد صالح ظافر)قطر میں گرفتار بھارتی بحریہ کے سابق کمانڈر کی رہائی کے باوجود قید برقرار، جاسوسی اور مالی مقدمات میں الجھے سابق افسر کی مشکلات ختم نہ ہو سکیں، اہلِ خانہ نے بھارتی حکومت پر غفلت کا الزام عائد کر دیا۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایک اور اہم پیش رفت منظرِ عام پر آئی ہے، جہاں قطر میں جاسوسی کے مقدمے میں ملوث بھارتی بحریہ کے سابق کمانڈر پورنیندو تیواری، جو دوحہ میں ایک نمایاں کیس کا حصہ تھے، اب بھی قید میں ہیں۔ وہ ان آٹھ سابق بھارتی بحری اہلکاروں میں شامل تھے جنہیں بعد ازاں معافی دی گئی، تاہم انہیں ایک علیحدہ مالی بدعنوانی کے مقدمے میں بھی گرفتار رکھا گیا تھا۔ اگرچہ قطر کی اعلیٰ عدالت نے انہیں مالی بدعنوانی کے الزام سے بری کر دیا ہے، اس کے باوجود وہ اب بھی دوحہ کی ایک جیل میں قید ہیں جو امریکی سفارت خانے کے قریب واقع ہے۔ رپورٹس کے مطابق ان کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے کے باوجود انہیں طویل قانونی اور حراستی مسائل کا سامنا ہے، اور وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ طریقہ کار کی پیچیدگیوں کے باعث بھارتی حکومت اور وزارتِ خارجہ نے انہیں نظرانداز کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں وہ طویل قید اور بگڑتی ہوئی صحت کا شکار ہیں۔ اہلِ خانہ نے بھارتی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی خراب ہوتی صحت کے پیش نظر جلد واپسی کو یقینی بنایا جائے۔ جب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی مداخلت پر آٹھوں اہلکاروں کو معافی دی گئی تو ان کے خاندانوں کو امید تھی کہ مشکلات ختم ہو جائیں گی، مگر تیواری اب بھی قید ہیں۔ ان کی والدہ نے میڈیا کو بتایا کہ اگرچہ مودی نے کہا تھا کہ تمام اہلکار بھارت واپس آ چکے ہیں، لیکن وزارتِ خارجہ نے کاغذی کارروائی کے باعث ایک بڑی غلطی کرتے ہوئے تیواری کو دوحہ میں چھوڑ دیا۔ اس سے قبل ان کی بہن بھارگوا نے الزام عائد کیا تھا کہ ایک نجی کمپنی کے سربراہ نے اپنے اثر و رسوخ سے مالی ذمہ داری ان کے بھائی پر ڈال دی اور انہیں تنہائی میں زبردستی بیانات پر دستخط کروائے گئے۔ ان کے مطابق 65 سالہ سابق افسر بے قصور ہونے کے باوجود قید میں ہیں۔ بحریہ سے ریٹائرمنٹ کے بعد تیواری نے ایک کمپنی میں کام شروع کیا تھا جو قطری بحریہ کو تربیت فراہم کرتی تھی۔ وہ ایک ماہر نیویگیشن افسر تھے اور ماضی میں ایک بڑے بحری جہاز کی کمان بھی سنبھال چکے تھے، جبکہ انہیں 2019 میں ایک اہم اعزاز سے بھی نوازا گیا تھا۔ قبل ازیں ان کی ضمانت کی درخواست بھی مسترد کر دی گئی تھی۔