پشاور (نمائندہ جنگ)خیبرپختونخوا حکومت نے کہا ہے کہ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ اب متفقہ فارمولہ نہیں رہا، اس لئے وفاقی حکومت فوری طور پر فارمولے پر نظرثانی کرے اور عبوری طور پر صوبوں کے لیے گرانٹس کا نظام متعارف کروائے تاکہ ریاستی امور متاثر نہ ہوں کیونکہ 8 سالہ تاخیر کے نتیجے میں 964 ارب روپے جو ضم شدہ اضلاع کا حق تھا دیگر صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے ،یہ وسائل ضم شدہ علاقوں کی ترقی اور مغربی سرحد کے استحکام پر خرچ ہونے کی بجائے دیگر اخراجات پر صرف ہوئے، جو انصاف اور آئینی اصولوں کے منافی ہے۔ ان خیالات کا اظہار خیبرپختونخوا کے وزیر خزانہ مزمل اسلم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق این ایف سی ایوارڈ کی مدت پانچ سال ہوتی ہے، جس کے بعد نئی معاشی صورتحال اور وفاقی تقاضوں کے مطابق نیا ایوارڈ جاری کیا جانا ضروری ہوتا ہے۔