ہود ہاشارون، اسرائیل(اے ایف پی) "اسرائیل میں، فضائی حملے کے سائرن ،بے چینی اور خوف کا باعث بن رہے ہیں،اسرائیل کے "مرکزی ادارہ شماریات (Central Bureau of Statistics) کی 2025کی ایک رپورٹ کے مطابق، اسرائیل میں ذہنی معذور افراد کی تعداد تقریباً 13.2لاکھ (1.32ملین) ہے، جو کل آبادی کا تقریباً 13 فیصد بنتی ہے۔"بچپن کے صدمے کی وجہ سے شور کے لیے انتہائی حساس، نیلی اس وقت تناؤ کا شکار ہو جاتی ہے جب فضائی حملے کے سائرن اسے ایک پرہجوم پناہ گاہ میں بھیج دیتے ہیں جہاں اس کی اپنی "اندرونی جنگ" باہر جاری جنگ کے ساتھ گڈ مڈ ہو جاتی ہے۔نیلی کا تجربہ، جس کا نام اس مضمون کے لیے تبدیل کر دیا گیا ہے، مشرقِ وسطیٰ کی جنگ سے نمٹنے کے دوران ذہنی صحت کے مسائل کا شکار افراد کی خاص کمزوری کو اجاگر کرتا ہے، جو 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہوئی تھی۔ہر سائرن کی وارننگ کے ساتھ، 21 سالہ لڑکی کے لیے وہی اذیت لوٹ آتی ہے، جس نے اسرائیل کے سب سے بڑے ہیلتھ کیئر فراہم کنندہ ʼکلالیٹ ہیلتھ سروسز کے زیرِ انتظام مرکزی قصبے ہود ہاشارون کے شلواٹا مینٹل ہیلتھ سینٹر میں نو ماہ گزارے ہیں۔اس نے مرکز کے دورے کے دوران بتایا: "ایک نسبتاً چھوٹے کمرے میں بہت سے ایسے لوگوں کے ساتھ ہونا جنہیں آپ نہیں جانتے، مرد اور عورتیں ایک ساتھ، جو عام طور پر کافی پرہجوم ہوتا ہے، ناگوار اور اجنبی لگتا ہے۔" اس نے مزید کہا: "ہم اسرائیل میں ہیں، اور باہر جنگ ہو رہی ہے۔ لیکن یہاں ایسے لوگ بھی ہیں جو کئی سالوں سے اپنی اندرونی جنگ سے نبرد آزما ہیں۔"جنگ کی پریشانی ان اسرائیلیوں کو بھی شدید طور پر محسوس ہوتی ہے جو معذوری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جن کی تعداد سینٹرل بیورو آف سٹیٹسٹکس کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 13.2 لاکھ یا آبادی کا تقریباً 13 فیصد ہے۔16 سالہ ریا عزمانوف، جو علمی معذوری (cognitive disability) کا شکار ہے، کے لیے غیر یقینی صورتحال اضافی چیلنجز پیدا کرتی ہے۔ اس کے والد زیو عزمانوف نے اے ایف پی کو بتایا: "معذوری کا شکار تمام بچوں کو استحکام اور یقین کے احساس کے لیے ʼمعمولاتʼ (routine) کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا جب موجودہ حالات کی طرح کوئی عام معمول نہیں رہتا، تو یہ اس کے اندر بہت زیادہ تناؤ اور اضطراب پیدا کرتا ہے۔"عزمانوف خاندان کے پاس وسطی شہر رعنانا میں اپنے اپارٹمنٹ میں کوئی ʼمامادʼ (مضبوط کمرہ) نہیں ہے، اور جب بھی سائرن بجتا ہے انہیں اپنی عمارت کی پناہ گاہ استعمال کرنی پڑتی ہے۔ اس کی والدہ وینا عزمانوف نے بتایا: "وہ بہت بے سکون ہو جاتی ہے۔ اسے پرہجوم جگہوں سے نفرت ہے۔ اس لیے کبھی کبھی نیچے جانے کے بجائے ہمیں باہر کھڑا ہونا پڑتا ہے۔" انہوں نے نوٹ کیا کہ پناہ گاہ کے اندر کا شور، سائرن کی آواز اور میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے کے دھماکوں کے ساتھ مل کر تناؤ کو بڑھا دیتا ہے۔معذور افراد کے لیے صفِ اول کے مراکز میں سے ایک ʼبیت ایسی شاپیراʼ میں تربیت کے سربراہ یوو براویر نے کہا کہ نقل و حرکت میں دشواری کا شکار افراد کے لیے جنگ کے دوران رسائی کے چیلنجز مزید شدید ہو جاتے ہیں کیونکہ "ہر چیز بہت تیز رفتار ہوتی ہے"۔ براویر نے کہا کہ قابلِ رسائی پناہ گاہوں کی نشاندہی کرنے والی عوامی معلومات کا حصول مشکل ہے، اور جن لوگوں کے گھروں میں ʼمامادʼ موجود ہیں، وہ بھی فضائی حملے کی وارننگ کے 90 سیکنڈ کے وقفے میں وہاں پہنچنے کے لیے جدوجہد کر سکتے ہیں۔براویر کے مطابق، دیکھ بھال کرنے والے (caregivers) اکثر جنگ کے دوران خاصا بھاری بوجھ اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ʼبیت ایسی شاپیراʼ نے پیشہ ور افراد یا خاندان کے اراکین کے لیے مشورے فراہم کرنے والی ایک ہاٹ لائن قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا: "جنگ کے اوقات میں ʼبرن آؤٹʼ (ذہنی و جسمانی تھکن) ایک اہم مسئلہ ہے جس سے ہم نمٹتے ہیں۔ہود ہاشارون، اسرائیل(اے ایف پی)بچپن کے صدمے کی وجہ سے شور کے لیے انتہائی حساس، نیلی اس وقت تناؤ کا شکار ہو جاتی ہے جب فضائی حملے کے سائرن اسے ایک پرہجوم پناہ گاہ میں بھیج دیتے ہیں جہاں اس کی اپنی "اندرونی جنگ" باہر جاری جنگ کے ساتھ گڈ مڈ ہو جاتی ہے۔نیلی کا تجربہ، جس کا نام اس مضمون کے لیے تبدیل کر دیا گیا ہے، مشرقِ وسطیٰ کی جنگ سے نمٹنے کے دوران ذہنی صحت کے مسائل کا شکار افراد کی خاص کمزوری کو اجاگر کرتا ہے۔