کراچی( اسٹاف رپورٹر )انسپکٹر جنرل پولیس سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ رواں سال جنوری سے کچے کے علاقے میں "نجات مہران آپریشن" تیز کیا گیا جس کے باعث 32 ڈاکو مارے گئے، 100 سے زائد گرفتار ہوئے جبکہ 225 ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال دئیے،کچے کے علاقے کو ڈاکوؤں سے مکمل پاک کردیا ہے جس کے بعد لوگ اہل خانہ کے ساتھ بلا خوف و خطر کچے کے علاقے میں سفر کر سکیں گے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) میں صنعتکاروں سے خطاب کے دوران کیا، آئی جی سندھ نے مزید کہا کہ اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ سال مارچ کے مقابلے رواں سال مارچ میں موٹرسائیکلیں چھیننے کے واقعات میں 54فیصد، گاڑیاں چھینے میں 48 فیصد، موبائل چھینے کے واقعات میں 35 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، کراچی میں ایک سال کے دوران 16 ہزار 500 موبائل چھیننے کے واقعات ہوئے، کراچی میں امن و امان کی صورتحال لندن اور نیویارک جیسے شہروں سے بہتر ہے،انہوں نے کہا کہ گن پوائنٹ پر اسنیچنگ کے دوارن قتل کے واقعات میں 88 فیصدتک کمی ریکارڈ کی گئی ہے، مقامی سطح پر تعاون کے بغیر پولیس کامیاب نہیں ہوسکتی، انہوں نے کہا کہ ٹریفک کی صورتحال کو بہتر کیا جارہا ہے، سیف سٹی پروجیکٹ دوسرے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے پر ایف آئی آر درج کی جائیں گی، انہوں نے کہا کہ کاٹی کی درخواست پر کورنگی صنعتی علاقے کا احاطہ کرنے والے 4 تھانوں کو بھی موبائل ترجیحی بنیاد پر دی جائیں گی۔