25ستمبر1986ء کا دن ہے،جلال آباد ایئر فیلڈ کے قریب حکمت یار کی حزب اسلامی سے تعلق رکھنے والے افغان کمانڈر عبدالغفار اور ان کے ساتھی گھات لگائے بیٹھے کئی گھنٹوں سے اپنے شکار کے منتظر ہیں۔تین مجاہدین نے کندھوں پر راکٹ لانچر اُٹھا رکھے ہیں،دو مجاہدین نے میزائلوں کی ٹیوبز تھام رکھی ہیں تاکہ وقت ضائع کئے بغیر راکٹ دوبارہ لوڈ کیا جاسکے۔دوپہر تین بجے 8ایم آئی 24 ہند گن شپ ہیلی کاپٹر نمودار ہوئے۔یہ سویت فضائیہ کا سب سے مہلک ہیلی کاپٹر تھامگر آج اسے دیکھ کر مجاہدین کے چہرے خوشی سے تمتانے لگے۔جلال آباد ایئر بیس پر لینڈ کرنیوالے یہ ہیلی کاپٹر جب زمین سے600فٹ کی دوری پر رہ گئے تو عبدالغفارنےچلا کر کہا،فائر۔ہدف کو نشانہ بنانے کے بعد لاک کردیا گیا تھا،اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر سب نے ٹریگر دبا دیا۔دو ہیلی کاپٹر پاش پاش ہوگئے،ایک لمحہ ضائع کئے بغیر دو مزید میزائل داغے گئے۔ایک اور ہیلی کاپٹر زمین بوس ہوگیا۔افغان جنگ کا پانسہ پلٹ دینے والایہ جادوئی ہتھیارجس سے روسی ہیلی کاپٹر تباہ کئے گئے،اس کانام اسٹنگر میزائل ہے جسے پہلی بار افغان سرزمین پر آزمایا گیا اور ویڈیو بنا کر امریکی صدر رونالڈ ریگن کو دکھائی گئی۔امریکہ نے خاصی پس وپیش کے بعد یہ ہتھیار افغان مجاہدین کو کیوں دیا؟آج ہم یہی جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔افغان مجاہدین آئی ایس آئی اور سی آئی اے کی بھرپور امداد کے باوجودروسی افواج کے قدم اُکھاڑنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔افغان بیورو کے سربراہ بریگیڈیئر یوسف کی تصنیف ”The Bear Trap“کے مطابق مجاہدین جس جنگ کو جہاد سمجھ کر لڑ رہے تھے اس میں سعودی عرب،چین،مصر اور ترکی کے علاوہ اسرائیلی اسلحہ بھی بڑی تعداد میں استعمال ہورہا تھا۔امریکہ ایئر ڈیفنس سسٹم کیلئے ایک مہلک میزائل 1981ء میں ہی تیار کرچکا تھا جسے اسٹنگر میزائل کہا گیا۔یہ پورٹ ایبل میزائل جسے کندھے پر رکھ کر چلایا جا سکتا تھا،اسکی خوبی یہ تھی کہ ایک بار لاک کرنے کے بعد یہ اپنے ٹارگٹ کا تعاقب کرنے میں بھٹک نہیں سکتا تھا اور بچنے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ جہاز اس کی رینج سے باہر چلا جائے۔بریگیڈیئر یوسف صفحہ نمبر 180پر لکھتے ہیں کہ تقریباً6سال تک سیاست آڑے آتی رہی اور ہمیں اسٹنگر میزائل نہ مل سکے۔آئی ایس آئی میں آنے کے بعد میں مجاہدین کو اسٹنگر میزائل دینے کی حمایت کرتا رہا۔1984ء کے آغاز میں امریکی حکام کا ایک وفد راولپنڈی آیا،ایک امریکی نے مجھ سے پوچھا کہ سویت فضائیہ سے لاحق خطرات کا تدارک کرنےکیلئے آپ کونسا ہتھیا رتجویز کریں گے۔میں نے بلاہچکچاہٹ جواب دیا،اسٹنگر میزائل۔جب یہ حکام امریکی سفارتخانے گئے تو انہوں نے سی آئی اے چیف کو کہا کہ جب بریگیڈیئر یوسف کہہ رہے ہیں تو آپ مجاہدین کو اسٹنگر کیوں نہیں دے رہے۔سی آئی اے حکام نے جواب دیا کہ حکومت پاکستان مجاہدین کو اسٹنگر فراہم کئے جانے کی مخالفت کر رہی ہے۔دراصل جنرل ضیا الحق کو یہ خوف لاحق تھا کہ اسٹنگر میزائل مجاہدین کے ہاتھ لگ گئے تو کہیں یہ ہتھیار انکے خلاف استعمال کرتے ہوئے، انکا طیارہ تباہ نہ کردیا جائے۔اُدھر امریکی حکام کو تشویش لاحق تھی کہ اسٹنگر میزائل افغان مجاہدین کو دینے سے یہ ٹیکنالوجی، ایران، چین اور روس کے ہاتھ لگ سکتی ہے۔جب روس کے خلاف جنگ سے اُکتاہٹ ہونے لگی تو تمام خدشات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے یہ ہتھیار مجاہدین کے حوالے کرنے کا فیصلہ کرلیا گیاپاکستان آرمی کی ایئر ڈیفنس رجمنٹ کے 10افسروں کو جون 1986ء میں تربیت حاصل کرنے کیلئے واشنگٹن بھیجا گیا۔کچھ عرصہ بعد آئی ایس آئی کے اوجڑی کیمپ میں ایک ٹریننگ اسکول بنایا گیا اور امریکہ سے تربیت لیکر آنے والے آئی ایس آئی کے افسر افغان مجاہدین کو ٹریننگ دینے لگے۔آئی ایس آئی کی اس ٹیم کے سربراہ کرنل محمود احمد غازی تھے۔ریٹائرڈ کرنل محمود غازی اپنی تصنیف ’افغان وار اینڈ سٹنگر ساگا‘ میں لکھتے ہیں کہ ’1986 میں36 لانچر اور154 سٹنگر میزائل افغانستان بھجوائے گئے تھے۔ ان میں سے 37 سٹنگر چلائے گئے جن سے 26 روسی جہاز مار گرائے گئے۔جبکہ بریگیڈیئر یوسف اپنی تصنیف ”The Bear Trap“کے صفحہ نمبر 186پر دعویٰ کرتے ہیں کہ اسٹنگر میزائل وصول ہونے سے اگست 1987ء میں انکی سبکدوشی تک 10ماہ میں افغان مجاہدین نے 187اسٹنگر میزائل چلائے اور کامیابی سے جنگی جہازوں کونشانہ بنانے کی شرح 75فیصد رہی۔پانچ جولائی 1989 ء کوامریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے پینٹاگان کی طرف سے کرائے جانیوالے خصوصی مطالعے کی ایک رپورٹ شائع کی جس میں امریکیوں نے یہ نچوڑ نکالا تھا کہ امریکی ساختہ سٹنگر میزائلوں کے استعمال نے افغان جنگ کا پانسہ پلٹنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا۔رپورٹ کے مطابق مجاہدین نے 340 میزائل داغے جن سے 269روسی جہاز مار گرائے گئے۔ اسٹنگر میزائلوں نے اسٹیٹس سمبل کی حیثیت اختیار کرلی تو ہر جہادی کمانڈر یہ ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کرنے لگا۔یونس خالص گروپ کے مجاہدین نے اوجڑی کیمپ سے اسٹنگر میزائل حاصل کئے اور تنبیہ کئےجانے کے باوجو واپسی کے سفر پردریائے ہلمند کنارے وہ راستہ اختیار کیا جو ایرانی سرحد کے قریب ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے انہیں پکڑ لیا،کچھ عرصہ بعد یہ مجاہدین تو چھوٹ گئے مگر امریکی اسٹنگر میزائل اور لانچر ایڑی چوٹی کا زور لگانے کے باوجود واپس نہ لیئے جا سکے۔جنرل اسلم بیگ جو بعد ازاں آرمی چیف بنے، تب پشاور کے کور کمانڈر تھے،انہوں نے بھی نمبرٹانگنےکیلئے اسٹنگر میزائل سے روسی جہاز گرانے کا دعویٰ کردیا۔وزیراعظم محمد خان جونیجو کو دوران اجلاس اطلاع دی گئی کہ پاک فوج نے اسٹنگر میزائل استعمال کرتے ہوئے روسی جنگی جہاز مار گرایا ہے۔حکمت یار جنکے علاقے میں جہاز مارگرانے کا دعویٰ کیا گیا تھا انہوں نے تردید کی۔ڈی جی آئی ایس آئی جنرل اختر عبدالرحمان کے کہنے پر فوجی حکام کی ایک ٹیم ملبہ تلاش کرنے کیلئے بھیجی گئی مگر اس نے اطلاع دی کہ دشمن کا جنگی جہاز مار گرانے کا دعویٰ درست نہیں۔طیارہ شکن میزائل اسٹنگر نے افغان جنگ کا پانسہ تو پلٹ دیا مگرانہیں واپس لینے کا مشن کیسے مکمل ہوا،اس حوالے سے آئندہ کسی کالم میں بات کریں گے۔