امریکا و اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ نے عالمی سیاست کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ تقریباً ایک ماہ سے جاری اس جنگی صورتحال نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو بے چینی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ابتدا میں یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل اپنی عسکری برتری کے باعث جلد ہی ایران کو دباؤ میں لے آئیں گے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ جو منظرنامہ سامنے آیا ہے، وہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ اب تو امریکا اس جنگ سے بھاگنے کیلئے بہانے ڈھونڈ رہا ہے۔ آگے کیا ہوتا ہے، اس پر اپنے اپنے اندازے ہوسکتے ہیں لیکن اگر یہ کہا جائے کہ ایران یہ جنگ جیت چکا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ ایران نے نہ صرف اسرائیل کے ناقابلِ تسخیر سمجھے جانیوالے دفاع کو تار تار کردیا بلکہ امریکا کے جدید ترین لڑاکا طیاروں اور ڈرونز کو بھی نشانہ بنایا۔ امریکی بحری بیڑے کا بھی بیڑہ غرق کردیا۔ اس کے ساتھ ساتھ خطے میں موجود امریکی مفادات کو بھی نشانہ بنا کر یہ پیغام دیا کہ وہ کسی بھی دباؤ کے آگے جھکنے والا نہیں۔ خلیجی ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر ہونے والے حملوں کے اثرات پورے خطے میں پھیل چکے ہیں جبکہ ایران کی جنگی حکمت عملی اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول نے پوری دنیا میں تیل کا بحران پیدا کر دیا ہے اور مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔ اس نے ہر فرد اور ہر ملک کو متاثر کیا۔ ماضی کے برعکس امریکہ اپنے اتحادیوں کو اس جنگ میں شامل کرنے میں ناکام رہا، جو اسکی کمزور ہوتی عالمی حیثیت کی نشاندہی کرتا ہے۔ صدر ٹرمپ کے طرزِ عمل نے بھی اس صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان کی غیر متوقع اور بعض اوقات متضاد پالیسیوں نے نہ صرف امریکہ کے مخالفین بلکہ اس کے اتحادیوں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ یورپ، برطانیہ اور جاپان جیسے قریبی اتحادی بھی اس جنگ میں امریکہ کے ساتھ کھڑے ہونے سے گریزاں نظر آئے۔ یہ ایک غیر معمولی صورتحال ہے، کیونکہ ماضی میں امریکہ کو ہمیشہ اپنے اتحادیوں کی مکمل حمایت حاصل رہی ۔ مزید برآں، امریکہ کی جانب سے عرب ممالک سے جنگی اخراجات پورے کرنے کے ممکنہ مطالبہ نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ یہ وہی ممالک ہیں جو پہلے ہی اربوں کھربوں ڈالر امریکہ میں سرمایہ کاری کر چکے یا کر رہے ہیں اور دفاعی تعاون کے نام پر امریکا کو بھاری قیمت ادا کرتے رہے ہیں۔ اب اگر انہی ممالک سے امریکا اپنی اُس جنگ کا خرچہ پورا کرنا چاہ رہا ہے جو اُس نے خطہ میں اسرائیل کی چوہدراہٹ قائم کرنے کیلئے شروع کی تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ سب عرب حکمرانوں کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی نہیں ۔ یہ صورتحال عرب دنیا کیلئے ایک اہم موقع ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے۔ کیا اب وقت نہیں آ گیا کہ وہ اپنی خودمختاری کو ترجیح دیتے ہوئے امریکا جیسے بے اعتبار ملک پر انحصار کم کریں؟ کیا انہیں اپنے وسائل اور سرمائے کو اپنے ہی خطے کی ترقی کیلئے استعمال نہیں کرنا چاہیے؟ اسی طرح نیٹو اور مغربی اتحاد کا مستقبل بھی سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ اگر امریکہ اپنے اتحادیوں کا اعتماد کھو دیتا ہے تو یہ اتحاد کس حد تک مؤثر رہ سکے گا؟ موجودہ حالات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ عالمی طاقت کا توازن بتدریج تبدیل ہو رہا ہے اور نئی صف بندیاں وجود میں آ رہی ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ دنیا کو اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ امریکا نے ہمیشہ اپنی طاقت کے زعم میں ہر ایک کو استعمال کیا، دنیا کی دولت اور وسائل پر قبضہ کیا۔ رکاوٹ بننے والے ممالک کو تباہ و برباد کیا، اپنی مخالف حکومتوں کو ختم کیا اور جہاں چاہا حملہ کر دیا، ایٹم بم چلا دیا، ایک کے بعد ایک نئی جنگ چھیڑ دی۔ اپنے مفادکیلئے امریکا نے ہمیشہ جھوٹ، فریب، دھوکہ بازی اور طاقت کا غلط استعمال کیا۔ نہ کسی عالمی قانون کو دیکھا نہ اقوام متحدہ یا کسی دوسرے عالمی ادارے کو گھاس ڈالی۔ ظلم کیا جاتا رہا۔ ناانصافی ہمیشہ امریکا کا وطیرہ رہی۔ ٹرمپ کا تو شکریہ بنتا ہے کہ اُس نے امریکا کے اصل چہرے کو اپنے اتحادیوں سمیت دنیا بھر کے سامنے بے نقاب کیا۔ ٹرمپ نے امریکا کے چہرےکو دنیا کے سامنے کھول کر پیش کر دیا ہے۔ امریکا ٹرمپ سے پہلے بھی ظالم تھا، سازشی تھا۔ ٹرمپ نے اپنی باتوں اور رویے سے یہ سب دنیا کودکھا بھی دیا اور بتا بھی دیا۔ ٹرمپ کا شکریہ اس لیے بھی کہ اُس نے امریکا کی عسکری طاقت کا پول بھی دنیا کے سامنے کھول دیا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ دنیا میں کون کون ٹرمپ کی طرف سے امریکا کی اصلیت کو دکھانے والے آئینے میں اپنی حقیقت کو پہچانتا ہے اور کون بدستور آنکھیں بند کیے رکھتا ہے۔