پیرس( رضا چوہدری / نمائندہ جنگ ) پاکستانی بزنس کمیونٹی کے بغیر پاکستان فرانس بزنس فورم کی تقریب، پاکستان فرانس بزنس فورم کے چیئرمین سمیت عہدیداروں کا تقریب سے مکمل لاعلمی کا اظہار ، تقریب پر تقریبا تیس ہزار یورو خرچ،کمرشل اتاشی کا اس سلسلے میں اپنا موقف دینے صاف انکار ۔ تفصیلات کے مطابق حکومت کی کفایت شعاری مہم جبکہ دوسری طرف قومی خزانہ کا بے دریغ خرچ ،حکومت پاکستان کی جانب سے منعقدہ فرانس ٹریڈ اینڈ انوسٹمنٹ فورم کی تقریب میں فرانس میں مقیم کسی پاکستانی برنس اینڈ ٹریڈ تو درکنار پاکستان فرانس بزنس فورم تک کو مدعو نہیں کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ایک طرف حکومت بچت اور کٹوتی پر زور دے رہی ہے تو دوسری طرف فرانس میں پاکستانی کمرشل دفتر تقریبا تیس ہزار یورو خرچ کرکے ایک بڑے ہوٹل میں تقریب منعقد کرکے کیا میسیج دے رہاہے جب اس سلسلے پاکستان فرانس بزنس فورم کے چیئرمین سمیت عہدیداروں سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے مکمل لاعلمی کا اظہار کیا جب کمرشل اتاشی سلیم احمد سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس سلسلہ میں کہ پاکستان سے کتنی کمپنیز کے نمائندے یا فارن آفس کا کوئی نمائندہ شریک ہوا تو انہوں اپنا موقف دینے صاف انکار کر دیا۔ پیرس میں مہنگے ترین ہوٹل میں بائیس ہزار یور و سے ہال بک کرکے پاکستان فرانس ٹریڈ اینڈ انوسٹمنٹ فورم کا انعقاد کیا گیا جس میں دعویٰ کیا کہ اس میں حکومتی عہدیداران، تاجر رہنما، صنعت کے ماہرین اور دونوں ممالک کے تجارتی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔جبکہ فرانس میں مقیم بزنس کمیونٹی ، تاجروں کا سب سے بڑا فورم فرانس پاکستان بزنس فورم پیرس فرانس کو مدعو تک نہیں کیا گیا مزید دعویٰ کیا گیا کہ یہ فورم 2024 میں صدر ایمانوئل میکرون اور وزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان طے پانے والے مفاہمت کے نفاذ کے لئے منعقد کیا گیا تھا، جس سے پاکستان اور فرانس کے درمیان مضبوط اقتصادی شراکت داری قائم کی جائے گی۔ فورم کا مقصد کاروبار کو جوڑنا، خیالات کا تبادلہ کرنا، دو طرفہ تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنا اور پاکستان کی تجارت اور سرمایہ کاری کی صلاحیت کو ظاہر کرنا تھا۔