اسلام آباد، کراچی(ایجنسیاں، اسٹاف رپورٹر) وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرول کی قیمت فی الفور 80 روپے کم کرکے 378 روپے فی لیٹر کرنے کا اعلان کر دیا، یہ ریلیف ایک ماہ کیلئے ہوگا، وفاقی وزراء اب دو ماہ کے بجائے 6ماہ کی تنخواہ سرکاری خزانے میں جمع کرائیں، وزیراعظم نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ وعدہ ہے کہ تب تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک عوام کی زندگی دوبارہ معمول پر نہیں آجاتی، دوسری جانب وزیراعلیٰ مریم نوازنے عالمی معاشی بحران کے تناظر میں پنجاب کے تمام شہروں جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے دارالحکومت اسلام آباد میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ مفت کرنے کا اعلان کر دیا ہے، مریم نواز نے کہا کہ اورنج لائن، میٹرو، گرین الیکٹرو و اسپیڈو بس سروس کے مسافروں کو ٹکٹ نہیں خریدنا پڑے گا، انہوں نے گڈزٹرانسپورٹ اور کسانوں کو بھی سبسڈی دینے کا اعلان کیا، وزیراعظم نے ریلوے کرایوں اور ٹول ٹیکس میں اضافہ روکدیا، جبکہ گڈز ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں 65فیصد اضافے کا اعلان کر دیا ، جیٹ فیول بھی مزید مہنگا ہوگیا، حکومت سندھ نےایندھن کی قیمتوں کے اثرات سے معاشرے کے کمزور طبقات کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے 55 ارب روپے کے جامع ہدفی سبسڈی پیکج کا اعلان کیا،وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کہا کہ موٹر سائیکل مالکان کیلئے 15دن تک مفت رجسٹریشن، ماہانہ 2 ہزار روپے دیئے جائینگے، جسکے نام پر موٹرسائیکل ہوگی اسی کے اکاؤنٹ میں پیسے دیئے جائینگے،عوام جلد اپنے موٹر سائیکل اپنے نام پرمنتقل کریں،مسافر بسوں کو ایک لاکھ، چھوٹے ٹرکوں کو 70ہزار اور بڑی ٹرکوں کو 80 ہزار ماہانہ ملےگا، ٹرانسپورٹر سے کرایوں میں اضافہ نہ کرنے کا حلف لیا جائیگا۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ پیٹرول پر 80 روپےفی لیٹرکمی کا اعلان کرتا ہوں۔ پیٹرول کی نئی قیمت 458 روپے سے کم کر کے 378 روپے فی لیٹرمقرر کر دی گئی ہے۔ جس کا اطلاق آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر بھی ہوگا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پیٹرول پر لیوی میں بھی 80 روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے۔ پیٹرول کی نئی قیمت کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔ اس کمی کا اطلاق اگلے ایک ماہ کیلئے پورے پاکستان پر ہوگا۔ وزیر اعظم نے قوم سے خطاب میں کابینہ ارکان کی 2 ماہ کے بجائے 6 ماہ کی تنخواہ سرکاری خزانے میں جمع کرانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پورے خطے میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں، عام آدمی کے لیے نئے چینلنجز ابھر کر سامنے آرہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ قومی وسائل محدود ہیں، آج عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوچکا ہے، مہنگائی نے دنیا کی طاقتور معیشتوں کی کمرتوڑدی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جانتا ہوں کہ پاکستان میں عام آدمی کس طرح زندگی بسر کرتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دعا ہے کہ کل قومی مشاورت کے حوالے سے وزیرخزانہ اور وزیرپیٹرولیم نے اعلانات کیے ان اعلانات سے پہلے بھرپور مشاورت ہوئی تھی، صدرمملکت نےپوری قومی قیادت کو ایوان صدرمیں دعوت دی تھی، یوان صدرمیں چاروں وزرائےاعلیٰ، آزاد کشمیرکے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں جنگ جلد سے جلد بند اورامن قائم ہوجائے، چھوٹے ٹرکوں کو 70 ہزار اور بڑے ٹرکوں کو 80ہزار اور پبلک ٹرانسپورٹ کو ایک لاکھ روپے ماہانہ سبسڈی دی جائے گی، مال بردار گاڑیوں کو سپورٹ کرنے کے لیے سو روپے فی لیٹر کے حساب سے سبسڈی دی جائے گی، چھوٹے کسانوں کو 1500 روپے فی ایکڑ امداد فراہم کی جائیگی۔ ریلوے میں اکانومی کلاس کے کرایوں میں اضافہ نہیں کیا جائیگا۔ علاوہ ازیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے موٹرسائیکل سواروں کو سبسڈی کے تحت ہرماہ 2 ہزار روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔جمعہ کوصوبائی وزراء ناصر شاہ، محمد بخش خان مہر، مکیش کمار چاولہ اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کے ہمراہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال نے عالمی تیل کی قیمتوں کو شدید متاثر کیا ہے جس کے باعث پاکستان جیسے ایندھن درآمد کرنے والے ملک پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔