• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قارئین !پاکستان سپر لیگ کا 11واں سیزن شروع ہو چکا ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ تو اسے نئے دور کا آغاز قرار دے رہا ہے۔ دو نئی ٹیموں کی شمولیت سے لیگ کی مالی حیثیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو آئی سی سی کی طرف سے سالانہ جتنی آمدن ہوتی ہے اب پی ایس ایل اس کے قریب قریب پہنچ چکی ہے یعنی پی سی بی کا میابی سے مالی خود مختاری کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔اس منصوبے کو شروع کرنے والے کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین نجم سیٹھی مبارکباد کے مستحق ہیں کیونکہ جن مشکل حالات میں اس لیگ کا آغاز ہوا اسے دیکھ کر کامیابی سے10 سال مکمل کرنااور پھر مالی اعتبار سے ترقی کرنا یقیناََ پاکستان کرکٹ کی مقبولیت کا اظہار ہے۔ اس کیساتھ ساتھ لاہورقلندرز، کراچی کنگز، اسلام آباد یونائیٹڈ، پشاور زلمی، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز، ملتان سلطانز کے مالکان کا کردار بھی لائق تحسین ہے کیونکہ ان کمرشل پارٹنرز نے بھی ہر مشکل وقت میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا ساتھ دیا۔ گو کہ کئی فرنچائزمالکان کو بھاری مالی خسارے کا بھی سامنا رہا لیکن اس کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور آج سب اس منافع بخش منصوبے سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

دونئی ٹیموں اور ملتان سلطانز کے نئے مالکان بھی یقیناً اسی جوش و جذبے کے ساتھ اپنا کردار نبھائیں گے۔پی ایس ایل مالی اعتبار سے تو کامیابیاں حاصل کر رہی ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کھیل کو براہ راست کوئی فائدہ ہو رہا ہے یا نہیں، یہ T-20 فارمیٹ ہے اور اس کرکٹ میں بھی پاکستان ٹیم دنیا کی 5 بہترین ٹیموں میں نظر نہیں آ رہی، پاکستان کرکٹ بورڈ پیسے تو بنا رہا ہے لیکن کرکٹرزکون بنائے گا۔ نہ کوئی فاسٹ باؤلر ہے نہ کوئی اسپنر، نہ کوئی وکٹ کیپر ہے نہ آل راؤنڈر نہ کوئی مڈل آرڈر بلے باز نظر آتا ہے۔ اگر پاکستان کرکٹ ٹیم بین الاقوامی سطح پر اچھا کھیل پیش نہیں کرتی تو اس کا نقصان پی ایس ایل کو بھی ہوگا اور اگر نئے اور باصلاحیت کرکٹرز سامنے نہیں آئیں گے تو پاکستان سپر لیگ کی مالی حیثیت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ کسی بھی 20-20 لیگ کی کامیابی میں مقامی کرکٹرز کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔

پاکستان سپر لیگ کے ابتدائی برسوں میں نوجوان مقامی کرکٹرز نے دنیا کی توجہ حاصل کی بالخصوص فاسٹ بالنگ ٹیلنٹ نے سب کو متاثر کیا۔ باصلاحیت بلے بازوں نے بھی لیگ کی مقبولیت میں اہم کردار ادا کیا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ نئے اور با صلاحیت کھلاڑیوں کی شمولیت نہیں ہو سکی یہی وجہ ہے کہ پاکستان ٹیم کو20-20 فارمیٹ میں خاصے مسائل کا سامنا ہے۔ بدقسمتی ہے کہ پی سی بی حکام آج بھی اس غلطی کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ نے حکومتی کفایت شعاری مہم کے تحت پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں ایڈیشن کو محدود پیمانے پر صرف2 شہروں میں اور تماشائیوں کے بغیر کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاہم اس فیصلے کے مالی اثرات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ذرائع کے مطابق گزشتہ سال ا سٹیڈیمز میں شائقین کی آمد سے تقریباً 50 کروڑ روپے کی آمدن ہوئی تھی جو اب مکمل طور پر ختم ہو جائیگی۔ ایسے میں یہ اہم سوال سامنے آتا ہے کہ اس خسارے کو کیسے پورا کیا جائیگا۔پی ایس ایل کے مالیاتی نظام کے مطابق ٹکٹوں سے حاصل ہونے والی رقم کسی ایک ٹیم کو نہیں ملتی بلکہ اسے ایک مرکزی ریونیو پول میں شامل کر دیا جاتا ہے۔ پول میں براڈکاسٹنگ رائٹس، اسپانسرشپ اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی شامل ہوتی ہے۔ریونیو کی تقسیم ایک طے شدہ فارمولے کے تحت ہوتی ہے جس میں پی سی بی تقریباً 5 فیصد سے کچھ زائد حصہ رکھتا ہے جبکہ 90 فیصد سے زیادہ رقم تمام فرنچائزز میں برابر تقسیم کی جاتی ہے۔ چونکہ گیٹ منی بھی اسی مرکزی پول کا حصہ ہوتی ہے، اس لئے یہ نقصان تمام ٹیموں پر یکساں اثر ڈالے گا۔ پی سی بی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس خسارے کو خود برداشت کریگا۔ اگرچہ مالی نقصان کا ازالہ ممکن ہے لیکن شائقین کے بغیر میچز کا ماحول متاثر ہوگا جسکی کمی کو پورا کرنا آسان نہیں ہوگا۔

قارئین ہم سمجھتے ہیں کہ خالی اسٹیڈیم میں کھیلا جانے والا میچ نہ صرف اپنی رونق کھو دیتا ہے بلکہ اس سے کھلاڑیوں کی کار کردگی بھی متاثر ہوتی ہے، شائقین کی اسٹیڈیم میں موجود گی کھلاڑیوں کو آکسیجن فراہم کرتی ہے جو کسی بھی کھیل کو زندہ رکھنے کا سبب ہوتی ہے۔ فرنچائزر زکو گیٹ منی دینے کا اعلان بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ پی سی بی خود اس فیصلے کے مالی نقصانات سے آگاہ ہے، اگر اس نقصان کا اندازہ پہلے سے تھا تو پھر اس فیصلے سے بچنے کے متبادل راستے کیوں نہیں اپنائے گئے؟ سخت سیکورٹی انتظامات کے ساتھ کم از کم محدود تعداد میں ہی شائقین کو داخلے کی اجازت دی جاسکتی تھی کیا یہ ایک متوازن حل نہیں تھا؟اب تو پی ایس ایل کی مختلف فرنچائز مالکان کی جانب سے وزیر اعظم شہباز شریف کے نام سوشل میڈیا پر پیغامات جاری کرتے ہوئے اسٹیڈیم میں شائقین کو اجازت دینے کی درخواست کی گئی ہے۔ لاہور قلندرز کے مالک عاطف رانا نے کہا کہ پی ایس ایل پاکستان کرکٹ کا جشن ہے لیکن شائقین کے بغیر یہ ادھورا ہے، وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ سے اپیل ہے کہ شائقین کو میدان میں واپسی کی اجازت دی جائے۔ملتان سلطانز کے مالک گوہر شاہ نےوزیر اعظم کے نام جاری پیغام میں لکھا کہ ہم سب شائقین کی واپسی چاہتے ہیں۔پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی کا کہنا تھا کہ پاکستان سپر لیگ عوام کو متحد کرنے کا ذریعہ ہے، فینز کا جذبہ اور ان کی موجودگی پی ایس ایل کی حقیقی روح ہے۔

تازہ ترین