• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میٹرک بورڈ کراچی: لاکھوں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا، امیدوار تاحال ایڈمٹ کارڈ سے محروم

محکمہ بورڈز و جامعات کے بار بار کنٹرولر بدلنے کی صورتحال کے نتائج سامنے آنے لگے ہیں جہاں میٹرک بورڈ کراچی کے نویں دسویں کے لاکھوں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ 

نویں اور دسویں کے امتحانات کا آغاز منگل 7 اپریل سے ہو رہا ہے مگر ہزاروں امیدواروں کو تاحال ایڈمٹ کارڈ جاری نہیں ہوسکے جس کی وجہ سے مقررہ تاریخ سے امتحانات کا آغاز مشکل میں پڑ گیا ہے۔ 

اس سلسلے میں جنگ کو موصول معلومات کے مطابق کمپیوٹرائزڈ ایڈمٹ کارڈ کا سرور بیٹھ گیا تھا جس کے لیے ایک نجی کمپنی ہنگامی بنیادوں پر ڈیٹا، دوسرے سرور میں رات گئے تک منتقل کرتی رہی تاہم اس منتقلی کے باوجود بھی سرور ایڈمٹ کارڈ کا لوڈ نہیں اٹھا سکا جس کی وجہ سے ہزاروں طلبہ ایڈمٹ کارڈ حاصل نہیں کرسکے ہیں۔ 

لاڑکانہ بورڈ کے انسپکٹر کالجز آصف چھٹو جنھیں امتحانات شروع ہونے سے محض چار روز قبل میٹرک بورڈ کراچی لایا گیا ہے۔ امتحانی امور کا تجربہ رکھنے نہ ہونے کے باعث صورتحال نہیں سنبھال سکے۔ 

محکمہ بورڈز و جامعات نے انھیں اس سے قبل انٹر بورڈ کراچی میں تعینات کرنے کی کوشش کی تھی تاہم انٹر بورڈ کے ملازمین غیر پیشہ ور اور سفارشی شخص کو کنٹرولر بنانے کے خلاف احتجاج پر چلے گئے اور ان کی جوائننگ نہیں ہونے دی۔

گرینڈ الائنس آف پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز سندھ نے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے لاکھوں طلبہ کو ایڈمٹ جاری نہ ہونے پر نویں دسویں جماعت کے امتحانات ایک ہفتے کے لیے موخر کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ شہر کے تمام ٹاؤنز میں 50  سے 70 فیصد اسکولز کے ایڈمٹ کارڈز پورٹل پر اپ لوڈ نہیں ہو سکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ مسنگ ایڈمٹ کارڈز اور ڈاؤن لوڈ ہونے والے ایڈمٹ کارڈز کی ممکنہ غلطیوں کی درستگی ایک دن میں ممکن نہیں ہے، ایڈمٹ کارڈز نہ ملنے کی وجہ سے طلبہ و طالبات اور والدین امتحانی مراکز سے لاعلم ہونے کی وجہ سے پریشان ہیں جب کہ امتحانی مراکز فائنل نہ ہونے کی وجہ سے تمام اسکول منتظمین بہت زیادہ مشکلات کا شکار ہیں۔ 

پاکستان پیپلز پارٹی ضلع وسطی کے چیئرمین تعلیم کمیٹی محمد حسن خان نے حکومت سندھ سے کہا ہے کہ کراچی بھر کے اسکولوں کی ایک قابل ذکر تعداد نے ابھی تک سرکاری پورٹل کے ذریعے اپنے طلباء کے ایڈمٹ کارڈ حاصل کرنا یا ان تک رسائی حاصل کرنا ہے لیکن ایڈمٹ کارڈز کا ایک بڑا حصہ یا تو جاری نہیں کیا گیا یا اس میں تضادات ہیں، جن کی اصلاح کے لیے مناسب وقت درکار ہے۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ اس کی وجہ سے طلباء اور ان کے اہل خانہ میں کافی بے چینی پائی جاتی ہے، جن میں سے بہت سے اپنے مقرر کردہ امتحانی مراکز سے لاعلم ہیں چنانچہ میٹرک کے امتحانات میں ایک ہفتے کی توسیع کی جائے۔ 

دریں اثناء میٹرک بورڈ کراچی نے اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بورڈ سے الحاق شدہ وہ اسکول جو ابھی تک آن لائن ایڈمٹ کارڈ ڈاؤن لوڈ نہیں کر پا رہے ہیں وہ اسکول سربراہان یا ان کے نمائندے اپنے اتھارٹی لیٹر کے ساتھ بورڈ آفس کے کانفرنس ہال پہلی منزل بلاک بی میں بروز پیر 6 اپریل 2026 کو صبح 9:00 بجے سے اپنے ایڈمٹ کارڈ حاصل کر سکتے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید