وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ جنگ وقتی طور پر ٹل گئی ہے، جنگ بندی پہلا قدم ہے، ہماری منزل پائیدار امن ہے۔
وفاقی کابینہ اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کا استقبال تالیوں سے کیا گیا، انہوں نے جنگ بندی میں معاونت پر صدر آصف زرداری، بلاول بھٹو، خالد مقبول، چوہدری شجاعت، عبدالعلیم خان اور چاروں وزرائے اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے خطاب میں مزید کہا کہ اس جنگ میں بھائی کو بھائی سے لڑانے کی کوشش کی گئی، فروعی مسائل کھڑے کرنے کی اندرونی اور بیرونی سازشیں کی گئیں، جس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔
وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ ایران امریکا جنگ بندی کے معاملے پر عسکری قیادت نے سیاسی قیادت کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر محنت کی۔
ان کا کہنا تھاکہ پاکستانی سیاسی اور فوجی قیادت ایک تھی، ایک ہے اور ایک رہے گی، جنگ بندی کے لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر کئی راتیں جاگتے رہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ امریکی اور ایرانی قیادت سے رابطے رہے، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور وزارتِ خارجہ کی ٹیم دن رات کام کرتی رہی۔
وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ روز سعودی ولی عہد سے بات کی، حملوں پر اظہارِ یکجہتی کیا، ہم جنگ بندی کے لیے پوری رات لگے رہے۔
انہوں نے کہا کہ آج اللّٰہ نے پاکستان کو دنیا بھر میں عزت عطا فرمائی ہے، ان تمام کامیابیوں پر اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ جنگ کے شعلے تمام خطے کو تقریباً لپیٹ میں لے چکے تھے، جنگ کے شعلے 2 ہفتوں کے لیے بجھ گئے انشا اللّٰہ ہمیشہ کےلیے بجھ جائیں گے۔
اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ملنے والی عزت سب کی کاوشوں کا نتیجہ ہے، دنیا جیسے آج پاکستان کی تعریف کررہی ہے یہ منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا۔
شہباز شریف نے کہا کہ ہم پوری رات لگے رہے یہ ایک ایسی کہانی ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے بڑا سبق ہوگا، ایرانی اور امریکی قیادت کا شکریہ کہ میری درخواست کو پذیرائی بخشی۔
وزیراعظم نے ایران اور امریکی قیادت کے ساتھ ساتھ جنگ بندی کی کوشش کرنے پر سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک، آذربائیجان، ترکیے، ملائیشیا اور عظیم دوست چین کا شکریہ ادا کیا۔