یقین جانیں سمجھ نہیں آرہا کہ پاکستان کے حوالے سے اپنی خوشی کا کیسے اظہار کروں۔ یہ جو پاکستان نے کر دکھایا ہے یہ کبھی کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچایا اور امن دیا، پاکستان نے انسانیت کی بہترین خدمت کی، پاکستان نے اسلام کی روح کے مطابق کام کیا اور کامیابی حاصل کی۔ الحمدللہ۔ عالمی سیاست کے ہنگامہ خیز منظرنامے میں پاکستان نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ امریکا و اسرائیل کی ایران پر مسلط کی گئی جنگ اور ایران کا بلخصوص خلیجی عرب ممالک پر حملوں نے ایک انتہائی مشکل ترین صورت حال پیدا کردی تھی۔ ایک طرف امریکا اور اسرائیل کی دھمکیاں اور یہ خوف کہ وہ ایران پر ایٹم بم بھی اب برساسکتے ہیں تو دوسری طرف ایران کی جوابی حملوں کی وجہ سے ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ خوف تھا کہ مسلمان ممالک اب آپس میں لڑ پڑیں گے- جب دنیا ایک بڑے تصادم اور ممکنہ تیسری جنگ عظیم کے دہانے پر کھڑی دکھائی دے رہی تھی، اللہ تعالیٰ کے خاص کرم سے ایک ایسا غیر متوقع کردار سامنے آیا جس نے نہ صرف اس بحران کو ٹالا بلکہ اپنے لیے عالمی سطح پر عزت و وقار کا نیا باب بھی رقم کیا اور وہ کردار پاکستان کا تھا۔ یہ بات شاید کچھ عرصہ پہلے تک ناقابلِ یقین لگتی کہ پاکستان، جو خود کئی داخلی و خارجی چیلنجز سے نبرد آزما ہے، اس جنگ جس کا دنیا کی واحد سپر پاور یعنی امریکا بھی حصہ تھا، ایک مؤثر ثالث کا کردار ادا کرے گا۔ لیکن حالیہ پیش رفت نے ثابت کیا کہ اگر نیت صاف ہو، قیادت یکسو ہو اور حکمت عملی درست ہو تو ناممکن بھی ممکن بن جاتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے جس بصیرت، تحمل اور خاموش سفارت کاری کا مظاہرہ کیا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ایک طرف واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہِ راست رابطے تقریباً منقطع ہو چکے تھے، تو دوسری طرف پاکستان نے پسِ پردہ روابط کے ذریعے اعتماد کی وہ فضا قائم کی جس نے بالآخر جنگ کے بادل چھٹنے میں مدد دی۔ پاکستان نے نہ صرف پیغامات کی ترسیل کا کردار ادا کیا بلکہ ایک عملی فریم ورک بھی پیش کیا، جس کے تحت فوری جنگ بندی اور بعد ازاں بامعنی مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی۔ یہ محض سفارت کاری نہیں تھی بلکہ ایک ذمہ دار ریاست کا وہ کردار تھا جو اپنے خطے اور دنیا کے امن کو اپنی ترجیح سمجھتی ہے۔ ان تینوں کی محنت اور دنیا کےلیے امن کی کاوشیں ان کو یقینی طور پر نوبیل امن ایوارڈ کا اہل بناتی ہیں۔ جو کام اقوام متحدہ نہ کر سکا، روس، چین، برطانیہ یورپ کوئی بھی نہ سکا وہ پاکستان نے ان تینوں کی مدد سے کر دکھایا۔ کچھ عناصر یقیناً ایسے بھی تھے جو نہیں چاہتے تھے کہ پاکستان اس کردار میں کامیاب ہو۔ لیکن پاکستان کی قیادت نے نہ صرف ان رکاوٹوں کو نظرانداز کیا بلکہ ثابت قدمی کے ساتھ امن کے پیغام کو آگے بڑھایا۔ یہی وہ پہلو ہے جس نے پاکستان کو دیگر ممالک سے ممتاز کیا۔ آج جب دنیا اس جنگ بندی کو ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھ رہی ہے، تو پاکستان کے عوام کو بھی فخر محسوس کرنے کا پورا حق ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف قیادت کی بصیرت کا نتیجہ ہے بلکہ ایک قوم کے اجتماعی شعور کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ افسوس صرف اُن لوگوں پر ہوتا ہے جن کی سیاسی سوچ نے اُن کو اس قدر نفرت انگیز بنا دیا ہے کہ وہ پاکستان اور مسلمانوں کی اتنی بڑی خوشی کو بھی محسوس کرنے سے محروم ہو چکے ہیں۔ یقیناً آگے کا راستہ آسان نہیں۔ جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنا ایک کٹھن مرحلہ ہوگا، جس میں کئی آزمائشیں آئیں گی۔ لیکن پہلا اور سب سے مشکل قدم اٹھایا جا چکا ہے اور اس کا سہرا پاکستان کے سر جاتا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے کرم سے پاکستان کو وہ عزت ملی ہے جس کا شاید ہم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ آج پاکستان نہ صرف اپنے خطے بلکہ پوری دنیا میں امن کا ایک مضبوط ستون بن چکا ہے۔