امریکی اسرائیلی حملے میں زخمی ایرانی رہنما کمال خرازی انتقال کر گئے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کی اسٹریٹجک کونسل برائے خارجہ تعلقات کے سربراہ اور سابق وزیر خارجہ کمال خرازی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔
رپورٹس کے مطابق 2 اپریل کو تہران میں ان کے گھر کو امریکی اور اسرائیلی حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے تھے جبکہ ان کی اہلیہ بھی شہید ہو گئی تھیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق کمال خرازی کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی تھی تاہم آج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
واضح رہے کہ کمال خرازی ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللّٰہ سید علی خامنہ ای کے بھی مشیر بھی رہ چکے ہیں اور نئے سپریم لیڈر کے لیے بھی اپنی خدمات جاری رکھے ہوئے تھے۔
وہ امور خارجہ سے متعلق ایران کی اسٹریٹیجک کونسل کے سربراہ تھے، کمال خرازی کی عمر 81 برس تھی اور وہ ایران کی خارجہ پالیسی ترتیب دینے والی شخصیات میں اہم ترین تصور کیے جاتے تھے۔
کمال خرازی 1997ء سے 2005ء کے دوران اصلاح پسند صدر محمد خاتمی کے دور میں وزیر خارجہ تھے، اِس وقت وہ مشاورتی ادارے کے سربراہ تھے جو ملک کی اعلیٰ ترین قیادت کو خارجہ پالسی پر سفارشات بھیجتی ہے۔