• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سابق ایرانی وزیر خارجہ کمال خرازی کی نماز جنازہ ادا کردی گئی

فوٹو: ایرانی میڈیا
فوٹو: ایرانی میڈیا 

ایران کے سابق وزیر خارجہ کمال خرازی کی نماز جنازہ  تہران میں ادا کردی گئی، جس میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق تہران میں کمال خرازی کے گھر پر یکم اپریل کو امریکا و اسرائیل نے فضائی حملہ کیا تھا، جس میں کمال خرازی شدید زخمی اور ان کی بیوی شہید ہوگئی تھیں۔

اس کے جواب میں ایرانی مسلح افواج نے خطے میں امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔

ابتدائی طور پر حملہ آوروں کو فوری کامیابی کی توقع تھی، تاہم ایرانی ردعمل کہیں زیادہ طاقتور ثابت ہوا، جس سے امریکی اور اسرائیلی فوجی وسائل کو بھاری نقصان پہنچا اور ملک میں اتحاد اور مزاحمت کو تقویت ملی۔

کمال خرازی کون تھے؟

واضح رہے کہ کمال خرازی ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللّٰہ سید علی خامنہ ای کے بھی مشیر بھی رہ چکے ہیں اور نئے سپریم لیڈر کے لیے بھی اپنی خدمات جاری رکھے ہوئے تھے۔

وہ امور خارجہ سے متعلق ایران کی اسٹریٹیجک کونسل کے سربراہ تھے، کمال خرازی کی عمر 81 برس تھی اور وہ ایران کی خارجہ پالیسی ترتیب دینے والی شخصیات میں اہم ترین تصور کیے جاتے تھے۔

کمال خرازی 1997ء سے 2005ء کے دوران اصلاح پسند صدر محمد خاتمی کے دور میں وزیر خارجہ تھے، اِس وقت وہ مشاورتی ادارے کے سربراہ تھے جو ملک کی اعلیٰ ترین قیادت کو خارجہ پالسی پر سفارشات بھیجتی ہے۔

ایران نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے جنگ بندی کے یہ مذاکرات تنازع کے خاتمے کی علامت نہیں بلکہ میدانِ جنگ کو سفارتی محاذ تک وسعت دینے کے مترادف ہیں، اور اس حوالے سے امریکا پر عدم اعتماد برقرار رکھا جائے گا۔

دوسری جانب ایران نے امریکا کے ساتھ دو ہفتے کی جنگ بندی کے بعد کل سے تمام بینک کھولنے کا اعلان  کردیا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید