کراچی (ٹی وی رپورٹ) ماہرین مشاہد حسین سید، حامد میر ،اعزاز چوہدری، پروفیسرنعیم ظفر ، ڈاکٹر جمیل احمد خان ، ُپروفیسر ظفر نواز، ملیحہ لودھی،سینیٹر افنان اللہ خان، خورشید محمود قصوری ، منصور جعفر اور ڈاکٹر عادل انجم نے کہا ہے کہ امن کی امید کو سب سے زیادہ خطرہ نیتن یاہو سے ہے۔ ممکنہ صدارتی امیدوار جے ڈی وینس کا اسلام آباد مذاکرات میں شامل ہونا ایک بڑا مثبت پوائنٹ ہے۔ پاکستان ہر ممکن کوشش کریگا مذاکرات کی ڈور نہ ٹوٹے، بات چیت چلتی رہی تو مثبت نتیجہ ضرور نکلے گا۔ اسرئیلی عوام کا بڑاحصہ ان سب چیزوں سے خوش نہیں، نیتن یاہو کی سیاسی کنڈیشن بہت کمزور ہے۔ وہ ”اسلام آباد مذاکرات امن کی اُمید“ پاکستان کا عظیم الشان کردارکے حوالے سے جیو نیوز کی خصوصی ٹرانسمیشن میں گفتگو کررہے تھے۔ تفصیلات کے مطابق خصوصی ٹرانسمیشن میں گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پاک چائنا انسٹیٹیوٹ مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ جو دنیا کی بڑی بڑی ریاستیں نہ کرسکیں وہ پاکستان نے کر دکھایا ، امریکا اور ایران جو تقریبا ً 48دنوں سے تباہی کے دہانے پر تھے وہ پاکستان کی بدولت اسلام آباد میں ساتھ بیٹھنے جا رہے ہیں، جب تک ایک کام ہو نہ جائے وہ نا ممکن ہی نظر آتا ہے ، اس وقت امن کی اس امید کو سب سے زیادہ خطرہ نیتن یاہو سے ہے،جس کو آن بورڈ نہیں لیا گیا امریکا نے ڈنڈا دیا کہ ہمیں جنگ ختم کرنی ہے ، وہ اپنا غصہ جو ایران پرہے اس کو نکال رہاہے لبنان پر جہاں سیز فائر کے بعد بھی حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان افغانستان کے حوالے سے جینوا معاہدے میں ایک کمرے میں افغانستان ایک کمرے میں پاکستان درمیان میں ایک کمرہ ہوتا تھا جس میں اقوام متحدہ کے نمائندے موجود ہوتے تھے ، یہاں بھی لگتا ہے طریقہ کار یہی ہوگا اور درمیانی کمرے میں پاکستان موجود ہوگا یہ ہمارے لئے لمحہ فخریہ ہے، یہ بھی ممکن ہے کہ اختتام اگر خوشگوار ہو جائے تو جانے سے پہلے ہاتھ ملائے جا سکتے ہیں ، جس طرح عمان میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور اسٹیووٹکوف جیرڈ کشنر نے نے مصافحہ کیا تھا۔ بعض دفعہ جوچاہئے ہوتا ہے وہ ملتا نہیں ، جو ملتا ہے وہ چاہئے نہیں ہوتا اسی لئے مذاکرات صرف ایران یا امریکا کے پوائنٹس کے اوپر محیط نہیں ہوں گے، کئی مقامات پر دونوں فریقین کو کمپرومائزڈ ہونا ہوگا ، جو وفود مذاکرات میں آرہے ہیں یقینا وہ سنجیدگی کے ساتھ امن کے خواہشمند ہیں۔