• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مولانا احتشام الحق تھانوی ہمیشہ حق کی آواز بنے

تحریر:عامر وحید
خطیب پاکستان حضرت مولانا احتشام الحق تھانویؒ نور اللہ مرقدہ 1915ء میں یو پی کے قصبے اٹاوہ میں پیدا ہوئے ،ان کے والدِ محترم حضرت مولانا ظہور الحق کیرانویؒ تھے، جو حضرت حکیم الامت مجدد الملت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ کے حقیقی بہنوئی تھے، یوں اُن کا تعلق ایک معروف علمی و مذہبی گھرانے سے تھا۔ حضرت نے کم عمری میں حفظِ قرآن مکمل کیا اور درس نظامی کے حصول کے لیے مظاہر العلوم سہارن پور میں ابتدائی تعلیم حاصل کی بعد ازاں برصغیر پاک و ہند اور عالمِ اسلام کے مشہور و معروف مدرسہ دارالعلوم دیوبند سے 1937ء میں درس نظامی کا کورس انتہائی کامیابی کے ساتھ مکمل کیا۔
حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے مرتب کردہ تبلیغی پروگرام ’’دعوۃ الحق‘‘ سے 1940ء میں وابستہ ہوئے اور تبلیغی امور بحسن و خوبی انجام دیتے رہے اور ساتھ ہی ساتھ تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیا اور عوام کی مسلم لیگ کے حق میں ذہن سازی کی اور تحریکِ پاکستان میں نمایاںکردار ادا کیا۔
مولانا احتشام الحق تھانویؒ ایک شیریں بیاں اور پُر اثر خطیب ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی پر سوز اندازِ تلاوت سے بھی آراستہ تھے، حضرت کی خطابت میں عربی، فارسی اور اردو کے برموقعہ و برجستہ اشعار کا کوئی ثانی نہیں۔
خطیب پاکستان حضرت مولانا احتشام الحق تھانویؒ نے 7سال دہلی کی سیکریٹیرٹ کی مسجد میں اعزازی طور پر خطابت کے فرائض انجام دیے جہاں سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں رہیںجن میں سردار عبدالرب نشتر،خواجہ ناظم الدین اور شہیدِ ملت خان لیاقت علی خان وغیر شامل ہیں۔
خطیب پاکستان ؒ علمائے دیوبند کے اربابِ تقویٰ پر مشتمل جمعیت العلمائے ہند کے ہندو کانگریس کے گٹھ جوڑ کے سبب ہمیشہ کانگریسی نظریے کے مخالف رہے، دو قومی اسلامی نظریے کے تحت قائد اعظم محمد علی جناح کی زیرِ قیادت پاکستان بنانے والی انڈین مسلم لیگ کے پکّے اور سچے حامی رہے اور پاکستان بننے سے ایک ہفتہ قبل بذریعہ خصوصی ٹرین دہلی سے کراچی تشریف لائے اور جیکب لائن کی مسجد سے متصل مکان میں قیام فرمایا اور مرکزی جامع مسجد تھانوی میں امامت و خطابت اور قوم کی راہنمائی کافریضہ انجام دیتے رہے، تادمِ آخر وہی آپ کا مسکن رہا اور وہیں آپ کی آخری آرام گاہ بھی ہے۔
آئینِ پاکستان کی تشکیل کے سلسلے میں حضرت شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ نے جس اہم کام کا آغازکیا تھا اُس میں نمایاں اور کلیدی کردار خطیب پاکستان حضرت مولانا احتشام الحق تھانویؒ نے ادا کیا، جس کے نتیجے میں قراردادِ مقاصد منظور ہوئی جو دستور سازی میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔
خطیب پاکستان حضرت مولانا احتشام الحق تھانویؒ نے اسلام اور پاکستان کے خلاف اُٹھنے والے ہر فتنے کی سرکوبی کے لیے اپنی جان کی پرواہ کے بغیر ببانگِ دہل آوازِ حق بلند کی اور باطل قوتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ، یہی وجہ ہے کہ قادیانیوں نے حضرت خطیب پاکستان اور دیگر علماء کو قتل کرنے کی دھمکیاں دیں۔
مولانا احتشام الحق تھانویؒ نے ٹنڈوالہ یار میں ایک عظیم الشان مدرسہ قائم کیاجس میں درس و تدریس کے لیے برصغیر پاک و ہند کے عظیم علمائے کرام کودارالعلوم الاسلامیہ ٹنڈوالہ یار لایا گیا۔
وہ بزرگ حضرت خطیب پاکستان کے بے حد ممنون اور مشکور نظر آتے تھے لیکن اُن بزرگوں کے دنیا سے چلے جانے کے بعد وہ مدارس اب جن لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں وہ اپنے بزرگوں اور اسلاف کی روش کے مخالف نظر آتے ہیں اور حضرت خطیب پاکستانؒ کانام تک لیناگوارا نہیں کرتے ۔
وفاق المدارس کے قیام کے سلسلے میں تاریخی حقائق کچھ اس طرح سے ہیں کہ 22؍ مارچ 1957ء میں ایک کمیٹی قائم ہوئی جس کے سربراہ اور کنوینر حضرت خطیبِ پاکستانؒ تھے اور پہلے اجلاس میں شریک ہونے والی مزیددو شخصیات حضرت مولانا شمس الحق افغانیؒ اور حضرت مولانا خیر محمد صاحب جالندھریؒتھے۔اس سلسلے میں حضرت مولانا خیر محمد صاحب جالندھریؒ کے ایک خط کا اقتباس بھی قارئین کی نظر کردوں جس کی عبارت کچھ یوں ہے:’’میں نے بذریعہ عریضہ اور فون عرض کیا تھا کہ تمام اہل مدارس عربیہ،تنظیم مدارس و تنظیم علماء کے خواہاں ہیں اور سب کی نظر آپ پرہے (یعنی خطیبِ پاکستان حضرت مولانا احتشام الحق تھانویؒ پر)۔ اگر دارالعلوم کے جلسے سے قبل چند علماء کی ایک میٹنگ بلا کر مشورہ ہو جائے تو جلسہ کے موقعہ پر اس کی تکمیل آسانی سے ہو سکے گی۔ اس کا اب تک جواب نہیں ملا۔ مولانا محمد علی صاحب جالندھری بھی اس کے حق میں ہیں، اور ان کی رائے ہے کہ مولانا اس میٹنگ کو ملتان بلا لیں، یہ مقام وسط میں ہے، یہاں اجتماع میں سہولت ہوگی۔
(نوٹ) مولانا اطہر علی صاحب کی دعوت الحق سے ہمیں سبق لے کر جلد از جلد تنظیم مدارس کی طرف متوجہ ہو جانا چاہیے اور اس بارات کے دولہا آپ ہی ہماری نظر میں ہیں، لہٰذا یہ سہرا باندھنے میں تامل نہ فرمائیں۔ واللہ المؤفق والمعین۔ اعزہ و برخورداران کا سلام و دعا قبول فرمائیں۔
ضروری گذارش! خیر المدارس کے لیے کراچی سے جو امداد جناب کی وساطت سے متوقع رہی اس کے لیے مدرسہ چشم براہ ہے۔ فقط طالب دعاء: احقر خیر محمد عفی عنہ،( بانی و مہتمم مدرسہ عربیہ خیر المدارس ملتان)، ۱۸؍ رمضان المبارک ۱۳۷۸ھ / مارچ ۱۹۵۹ء۔‘‘
قیس سا پھر کوئی نہ اُٹھا بنو عامر میں
فخر ہوتا گھرانے کا سدا ایک ہی شخص
خطیب پاکستان حضرت مولانا احتشام الحق تھانویؒ نے فتنۂ قادیانیت، جگتو فرنٹ اورفتنۂ سوشلزم کے خلاف ملک بھر میں جلسوں سے خطاب کیا اور ہر فتنے کی سرکوبی کے لیے عوام کو حق و باطل میں امتیاز کی آگاہی فراہم کی۔
حضرت خطیب پاکستان ؒ نے ریڈیو پاکستان، جنگ اخباراور دیگر اخباروں میں درسِ قرآن بیان بھی کیا اورتحریر بھی فرمایا اور پیشکش کے باوجود کسی سے درس قرآن کا کبھی بھی کوئی معاوضہ نہیں لیا اور اُسے اپنا ذخیرۂ آخرت بنایا۔
عمر بھر قرآن کا پیغام پھیلاتا رہا
ہر گھڑی اسلام کی تبلیغ فرماتا رہا
خطیب پاکستان ؒ کے نمایاں کارناموں میں سے ایک یہ بھی کہ مشرقی و مغربی پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے جید علمائے کرام کا نمائندہ اجلاس اپنے مکان ۵۶ جیکب لائن متصل تاریخی مرکزی جامع مسجد تھانوی پر منعقد کیا جس میں31علمائے کرام نے شرکت کی اور متفقہ 22نکات مرتب کیے جس کے اطلاق سے ملک میں اسلامی قوانین کا عملدر آمد آسان ہوسکتاہے۔
خطیب پاکستان حضرت مولانا احتشام الحق تھانویؒ نے اپنا آخری سفر بھارت کا کیا، حضرت کی پیرانہ سالی کے باوجود بھارتی مسلمانوں کا جذبہ یہ تھا کہ ایک ایک دن میںحضرت کے کئی کئی پروگرام رکھے گئے اور حضرت نے ایک تقریر کے دوران یہ بھی فرمایا کہ مجھے خوشی ہے کہ آپ لوگوںمیں دین کی باتیںسننے کا جذبہ بہت ہے لیکن میری صحت اس کی اجازت نہیں دیتی ، حضرت کو 24؍ جمادی الاولیٰ 1400ھ/11؍ اپریل 1980ء بروز جمعہ دل کا جان لیوا اٹیک ہوا اور خطیب پاکستان حضرت مولانا احتشام الحق تھانویؒ اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گئے، حضرت کا جسدِ خاکی PIA کی خصوصی پرواز کے ذریعہ کراچی لایا گیا، نشتر پارک کراچی میںہزاروں سوگوارن کی موجودگی میں نمازجنازہ ادا کی گئی اور تاریخ مرکزی جامع مسجد تھانوی سے متصل حضرت کو سپردِ خاک کیاگیا۔
یہ رحلت ہے کس آفتابِ ہُدیٰ کی
یہ ہر سمت ظلمت ہے کیوں اِس بلا کی
اُٹھا کون عالَم سے محبوب عالَم
صدا کیوں ہے ہر سمت آہ و بُکا کی
ملک بھر سے سے مزید