جیکب آباد (نامہ نگار) جیکب آباد کے گاؤں محمد صدیق آرائیں میں گھروں کو آگ لگانے کے مقدمے میں سردار صدام خان بُرڑو اور سردار احمد علی چنہ کا نام شامل کرانے کے لئے سندھ ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔درخواست گزار شبیر برڑو نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ واقعے کی موجودہ پولیس تفتیش پر تحفظات ہیں، اس لئے کیس کی تحقیقات پولیس سے واپس لے کر شفاف اور غیر جانبدار جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔پٹیشن میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ واقعے کے تمام ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے اور حقائق منظرِ عام پر لانے کے لئے اعلیٰ عدالتی نگرانی میں تحقیقات ناگزیر ہیں۔ درخواست میں عدالتِ عالیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ نامزد افراد کا کردار سامنے لانے اور واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے احکامات جاری کئے جائیں اور جیساکہ یہ معاملہ ملک کا ہائی پروفائل کیس ہے اس میں وزیر اعلی سندھ،وزیرداخلہ اور آئی جی سندھ پولیس کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کیا جائے۔سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر ہونے کے بعد کیس نے نئی قانونی اور سیاسی اہمیت اختیار کر لی ہے، جبکہ متاثرین انصاف کے منتظر ہیں ۔یاد رہے کہ مذکورہ کیس جیکب آباد کی عدالت میں زیر سماعت ہے جس کی شنوائی 3جون کو ہوگی عدالت نے دو نوں سرداروں کو حاضری سے مستثنی قرار دیا ہے۔