لاہور(آصف محمود بٹ) پنجاب میں غیر قانونی افغان باشندوں کیخلاف کریک ڈاؤن مزید سخت کرنے کے احکامات ۔ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو خفیہ ٹھکانوں، سہولت کاروں اور فرار کے طریقہ کار سے متعلق مکمل معلومات جمع کرنے کی ہدایت۔ ہوم سیکریٹری کا ڈپٹی کمشنروں اور ڈی پی اوز کو واپسی مہم کی ’’ذاتی نگرانی‘‘ یقینی بنانے کا حکم ۔حکام کے مطابق یہ پالیسی داخلی سلامتی مضبوط بنانے، غیر دستاویزی ہجرت کو منظم کرنے ، بارڈر کنٹرول نظام بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔پنجاب حکومت نے غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف جاری کارروائی مزید تیز کرتے ہوئے صوبے بھر کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام کو انٹیلی جنس معلومات اکٹھی کرنے، سرچ آپریشنز بڑھانے اور غیر دستاویزی غیر ملکیوں کی پروفائلنگ سخت کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب کے ہوم سیکریٹری ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کی جانب سے تمام کمشنرز اور ریجنل پولیس افسران کو ایک اہم مراسلہ جاری کیا گیا، جو 25 مئی کو وفاقی حکومت کے ساتھ ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد ارسال کیا گیا۔ پنجاب کے مختلف اضلاع، خصوصاً شمالی پنجاب میں روزانہ 15 سے 30 غیر قانونی افغان باشندوں کو تلاش کرکے حراست میں لیا جا رہا ہے۔ مراسلے کی نقول فوری عملدرآمد اور آپریشنل رابطہ کاری کیلئے تمام ڈویژنل کمشنرز اور ریجنل پولیس افسران کو بھی ارسال کردی گئی ہیں حکام کے مطابق پنجاب اس مہم کا اہم مرکز بن چکا ہے سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ متعدد غیر دستاویزی افراد بار بار اپنی رہائش تبدیل کرتے ہیں، غیر رسمی کرایہ داری نظام استعمال کرتے ہیں اور مقامی سہولت کاروں کی مدد سے معمول کی ویریفکیشن اور سرچ آپریشنز کے دوران شناخت سے بچ نکلتے ہیں۔ ۔حکام کے مطابق یہ مہم خاص طور پر ایسے افراد کے خلاف ہے جو بغیر قانونی دستاویزات کے ملک میں مقیم ہیں اور اسے وفاقی پالیسی گائیڈ لائنز کے تحت صوبائی حکومتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اشتراک سے نافذ کیا جا رہا ہے۔