• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قارئین !ایک طرف امریکی صدر کی یاوہ گوئی جاری تھی اور دوسری جانب پاکستان یہ کوشش کر رہا تھا کہ کسی بھی طرح آگ کے شعلوں کو بجھا کر امن کے قیام کی راہ ہموار کی جا ئے۔ اس سلسلے میں پاکستان کا تیار کردہ مجوزہ منصوبہ ایران اور امریکی قیادت کو پہنچا دیا گیا تھاجس میں فوری جنگ بندی اور اسکے 15 سے 20 روز بعد جامع معاہدے کی تجاویز شامل تھیں۔ منصوبے کے تحت جنگ بندی کے فوراً بعد آبنائے ہرمز کے دوبارہ مکمل کھلنے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میںفیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مسلسل رابطے کئے۔ منصوبے کے مطابق جنگ بندی کے بعد اسلام آباد میں حتمی مذاکرات ہونے جا رہے ہیں جبکہ معاہدے میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی کے بدلے پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی شامل ہو سکتی ہے۔پاکستان جنگ بندی اور قیامِ امن کیلئے جو کوششیں کر رہا ہے ان کیلئے اسے دیگر مسلم ممالک کا تعاون بھی حاصل ہے لیکن ایک بڑا اور اہم مسئلہ امریکی صدر کے انتہائی جارحانہ بیانات ہیں جنکی وجہ سے معاملات سدھار کی طرف آتے دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ جنگ بندی اور قیامِ امن کے راستے میں ایک بہت بڑی رکاوٹ صہیونی شر پسندی بھی ہے اور اسی کی وجہ سے اس جنگ کا آغاز ہوا تھا۔ ایران کے خلاف امریکا اور نا جائز صہیونی ریاست جو کارروائیاں کر رہے ہیں ان کے علاوہ صہیونیوں کی طرف سے لبنان اور غزہ میں مظالم کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ دنیا کی تاریخ میں ایسےلمحات کم ہی آئے ہیں جب ایک ملک نے نہ صرف علاقائی تنازع کو روکا بلکہ ممکنہ طور پر عالمی تباہی سے پوری انسانیت کو بچا لیا۔ حالیہ دنوں میں پاکستان نے بالکل یہی کردار ادا کیا ہے۔ وزیر اعظم اور فوجی قیادت کی مشتر کہ سفارتی کاوشوں نے ایک ایسے خطر ناک بحران کو روک دیا جسکے پھیلنے سے تیسری عالمی جنگ، اور شاید پہلی ایٹمی جنگ یقینی تھی۔ آج جب جنگ بند ہو چکی ہے، آبنائے ہرمز کھل گئی ہے، تیل کی قیمتیں گر رہی ہیں اور عالمی مارکیٹس میں سکون لوٹ آیا ہے تو یہ پاکستان کی کامیاب ثالثی کا نتیجہ ہے۔ یہ واقعہ پاکستان کے قومی وجود کے بنیادی مقصد کی یاد دلاتا ہے۔ قائد اعظم نے پاکستان کو صرف مسلمانوں کا علیحدہ وطن ہی نہیں عالمی امن کا ضامن بھی قرار دیا تھا۔ آج جب پاکستان نے امریکہ اور ایران جیسے طاقتور فریقین کے درمیان فوری جنگ بندی کروا کے، اسرائیل کو بھی سیز فائر پر راضی کر کے اور مذاکرات کی میز اسلام آباد میں سجانے کا اہتمام کرکے یہ ثابت کر دیا ہے کہ دہ اپنے اس مشن کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، پوری قوم کو اس کامیابی پر فخر محسوس کرنا چاہئے۔ یہ کوئی عام سفارتی کامیابی نہیں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت اور اس کی قیادت کی بیدار مغزی کا واضح ثبوت ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی اکثریت جنگ اور تباہی نہیں چاہتی عوام چاہے کسی بھی مذہب، معاشرے یا علاقے سے تعلق رکھتے ہوں، امن اور استحکام ہی ترقی اور بقا کا واحد راستہ جانتے ہیں۔ جنگ کی آگ صرف چند مخصوص عناصر کو فائدہ پہنچاتی ہے چاہے وہ ہندوتوا کی بنیاد پر نفرت پھیلانے والے ہوں، صہیونی سوچ کے حامل عناصر ہوں یا عالمی اسلحہ ساز کمپنیاں۔ یہ عناصر تنازعات کو ہوا دیتے ہیں تا کہ اپنے مفادات پورے کر سکیں۔ پاکستان نے اس کے برعکس امن کی راہ پر پیش قدمی کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ بات چیت، حکمت عملی اور اعتماد سازی سے نا ممکن دکھائی دینے والے مسائل بھی حل کئے جاسکتے ہیں۔ اب 2 روز بعد دنیا کے اس سب سے بڑے تنازع پر باقاعدہ مذاکرات اسلام آباد میں ہو رہے ہیں۔ جس طرح پاکستان نے اس نازک مرحلے میں ناممکن کو ممکن بنایا ہے،امید ہے اسی حکمت عملی اور بیدار مغزی سے اگلے مراحل بھی مثبت نتائج کی طرف لے جائیگا۔

دوسری جانب بھارت آج جس رویے کا شکار ہے اس کی جڑیں اس کی اپنی ناکامیوں میں پیوست ہیں۔ ایک طرف خلیجی خطے میں بڑھتے تناؤ کو کم کرنے کیلئے پاکستان کی مسلسل کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے بھارت کا میڈیا بھی اب ماننے پر مجبور ہے۔ بھارتی صحافی کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ اسلام آبا د نے وہ کردار ادا کیا ہے جس کا دہائیوں سے خطہ منتظر تھا۔ اس کے مقابلے میں نئی دہلی کے پالیسی سازوں کو شرمندگی، الجھن اور ناکامی کا چہرہ بن کر سامنے آنا پڑا ہے۔ اس اعتراف نے مودی سرکار کی کمزوری کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ بھارت کی تکلیف صرف یہ نہیں کہ پاکستان کو عالمی سطح پر پذیرائی مل رہی ہے بلکہ اس کا درد اس بات سے بھی بڑھ گیا ہے کہ اس کا دیرینہ اتحادی، جسے مودی اپنے الفاظ میں باپ کہتا تھا، شرمندگی اور شکست کا شکار ہے۔ اسرائیل نے پاکستان کے خلاف جو کھیل کھیلنے کی کوشش کی وہ ناکام ہوا۔ بظاہر تل ابیب کو امید تھی کہ وہ خطے میں پاکستان کو دباؤ میں لا سکے گا مگر حالات نے اس کے منصوبے کو الٹ کر رکھ دیا۔ اسی مایوسی نے اسے اسلام آباد کے خلاف تلخ بیانات تک دھکیل دیا ہے۔ دوسری طرف بھارت کے اپنے حالات بھی خراب ہیں۔ اسی لئے پاکستان کے خلاف الزام تراشی اور دھمکیوں کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے۔ لیکن یہ تماشا زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔ بھارت کیلئے بہتر یہی ہے کہ اپنی اندرونی کمزوریوں پر توجہ دے، الزام تراشی اور دھمکیوں کا راستہ اسے پہلے بھی رسوا کر چکا ہے، اگر اس نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو اس بار کوئی اسے بچانے نہیں آئے گا۔

تازہ ترین