پشاور (لیڈی رپورٹر) خیبر پختونخوا پٹرولیم ڈیلرز اینڈ کارٹیج کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن نے وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات پر ملنے والے چھ فیصد مارجن کے خلاف صوبے بھر میں پٹرول پمپس بند کرنے کی دھمکی دے دی۔ پشاور پریس کلب میں گزشتہ روز پٹرولیم ڈیلر ایسوسی ایشن خیبر پختون خوا کے چیئرمین گل نواز افریدی نے صدر اختر نواز خان اور سیکرٹری بہزاد الرحمان نے چیف پیٹرن مقصود انور اور صوبائی عہدہ داروں کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پٹرول ڈیلرز زبو حالی کا شکار ہیں، تمام ٹیکسز دینے کے باوجود ہمیں حکومت صرف چھ پرسنٹ مارجن دے رہی ہے جو کافی مدت سے چلا ا رہا ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ پٹرولیم ڈیلرز کو پٹرول اور دیگر مصنوعات پر 8فیصد مارجن دیا جائے بصورت دیگر خیبر پختون خوا کے تمام پٹرول پمپ بند کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کریں گے اور پہیہ جام کر دیں گے۔ گل نواز خان افریدی نے کہا کہ ہمارے مقابلے میں انتظامیہ غیر قانونی ٹیکس نہ دینے والے ڈبہ پٹرول پمپوں کو تحفظ فراہم کر رہی ہے جو سراسر غیر قانونی ہے، ائے روز ہمارے پٹرول پمپوں پر ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر کنزیومر پیمانہ چیک کرنے اتے ہیں تو دوسری طرف ہمارے دفاتر کو دفاتر کو پولیس ریڈرز، پٹواری، تحصیلدار ہر ایرا غیرا اٹھ کر ا جاتا ہے اور ہم سے رقم کا مطالبہ کرتا ہے لیکن انہیں کچھ نہیں کہا جا رہا، اور نہ ہمیں تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے، کیا ہم کوئی غیر قانونی کاروبار کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم تو ایف بی ار اور پاکستان کے دیگر اداروں کو باقاعدگی سے ٹیکس دے رہے ہیں اور اپنے ملازمین کی تنخواہیں بھی 10 فیصد کے حساب سے سالانہ بڑھا رہے ہیں لیکن حکومت ہمیں جو چھ فیصد مارجن دے رہی ہے پٹرولیم مصنوعات میں وہ تمام اخراجات کے بعد صرف ایک اشاریہ پانچ فیصد رہ جاتا ہے انہوں نے کہا کہ پختونخواہ کے حالات کے مطابق 8فیصد پٹرول پمپوں کی روزانہ سیل ایک ہزار سے دو ہزار تک ہے اس کے علاوہ جگہ جگہ غیر قانونی ڈبہ پٹرول اسٹیشن جس کا تناسب ایک پمپ کے مقابلے میں 10 سے 15فیصد تک ہے کھلے ہوئے ہیں اور وہ عام پٹرول بیچ رہے ہیں لیکن انتظامیہ ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کر رہی، گل نواز خان افریدی نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافوں نے ڈیلرز کی معاشی صلاحیتوں کو بری طرح متاثر کیا ہے جس کی وجہ سے ڈیلروں کو یکا یک پٹرول اور دیگر مصنوعات 100 روپے فی لیٹر مہنگا خریدنا پڑا اور جب ادائیگی بھی ایڈوانس میں ہو تو اپ اضافی رقم کا بندوبست کیسے کریں گے انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ ڈیلر مارجن کو قیمتوں کے تناسب سے بڑھایا جائے اور ہماری تجویز ہے کہ اس کو کم از کم اٹھ فیصد کیا جائے اس سلسلے میں ہماری مرکزی قیادت نے معاملہ مرکزی حکومت کے ساتھ اٹھایا ہے اور عندیہ دیا ہے اگر ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو پورے ملک میں ہڑتال کرنے پر مجبور ہوں گے۔