پشاور (کرائم رپورٹر) نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی پشاور نے کارروائی کرتے ہوئے خاتون کے توہین امیز تصاویر اور دیگر مواد سوشل میڈیا پر شیئر کرنے والےملزم کو گرفتارکیا ہے۔ ملزم نے جعلی سوشل میڈیا اکاونٹس بنارکھی ہیں اورخاتون کے شوہر و خاندان کےدیگر افراد کو بھی نازیبا مواد شیئرکی۔نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کے مطابق ملزم عبدالمجید پرالزام ہے کہ اس نے2021 اور 2022 کے دوران مدعیہ کی بیٹی کی نازیبا تصاویر اور توہین آمیز مواد مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مسلسل اپلوڈ اور شیئر کیں۔ ملزم مدعیہ اور اس کے خاندان کو ہراساں، بلیک میل اور ذہنی اذیت کا نشانہ بنانے میں میبنہ طورپر ملوث رہاہے۔تحقیقات کے مطابق ملزم مختلف جعلی اور فرضی فیس بک اکاؤنٹس استعمال کرتے ہوئے نازیبا تصاویر پبلکلی شیئر کرتا رہا جبکہ وٹس ایپ پر بشمول سعودی عرب کے نمبرز پر یہ تصاویر مختلف افراد کو بھیجتا رہا۔ ملزم نے یہ تصاویر متاثرہ لڑکی کے شوہر اور دیگر لوگوں کو بھی شیئر کیں تاکہ خاندان کو بدنام اور ذہنی اذیت کا شکار بنایا جاسکے۔تحقیقات کےدوران یہ بات سامنے ائی ہے کہ مدعیہ کے شوہر کئی سال قبل وفات پا چکا ہے جبکہ اس کا اکلوتا بیٹا ہی گھر کا واحد سہارا تھا۔ مدعیہ کا اکلوتا بیٹا، جس کی عمر تقریباً 19 سے 20 سال تھی، اپنی بہن کی مسلسل بدنامی، ہراسانی اور سوشل میڈیا پر نازیبا تصاویر کی تشہیر سے دلبرداشتہ ہو کر 25 مئی 2021 کومبینہ خودکشی کر بیٹھاتھا۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد مدعیہ مکمل طور پر تنہا ہوگئی اور گھر کا واحد سہارا بھی ختم ہو گیا۔ملزم اس دوران سعودی عرب فرار ہوا اور بیرونِ ملک ہونے کی وجہ سے گرفتاری سے بچتا رہا جبکہ مسلسل نازیبا مواد شیئر کرتا رہا۔ افسوسناک امر یہ بھی سامنے آیا کہ مدعیہ کے بیٹے کی خودکشی کے چند روز بعد بھی ملزم باز نہ ایا۔ ملزم تدفین کی تصاویر کے ساتھ مدعیہ کی بیٹی کی نازیبا تصاویر شیئر کرکے اشتعال انگیز اور دھمکی آمیز پیغامات بھی دے رہا تھا۔انکوائری مکمل ہونے کے بعد ملزم عبدالمجید کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کیا گیا۔