• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جبری گمشدیوں اور دور دراز علاقوں میں قید افراد کی مقامی علاقوں میں منتقلی کےلئے مظا ہرہ

پشاور ( لیڈی رپورٹر)خیبر پختون خوا کے علاقوں سوات، کوہاٹ، اورکزئی ایجنسی، ہری پور، خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے بزرگ مرد و خواتین نے گزشتہ روز پشاور پریس کلب کے باہر اپنے پیاروں کی جبری گمشدیوں اور دور دراز علاقوں میں قید افراد کی مقامی علاقوں میں منتقلی کے لیے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے کا اہتمام ڈیفنس اف ہیومن رائٹس نے کیا تھا اس موقع پر مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہمارے پیارے جو جبری گمشدگی کا شکار ہیں انہیں منظر عام پر لایا جائے کیونکہ اب ہم بوڑھے ہو گئے ہیں اور ہماری زندگی کا یہی واحد سہارا ہیں انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا وہ ان کی مدد کریں اس سلسلے میں مظاہرے میں شریک دیگر افراد کا کہنا تھا کہ ان کے پیاروں کو عدالتوں سے سزائیں ہو گئی ہیں اور انہیں پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے دور دراز جیلوں میں قید رکھا گیا ہے لہذا ہماری غربت اور تنگدستی کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمارے پیاروں کو مقامی جیلوں میں منتقل کیا جائے۔۔ مظاہرے میں شریک سوات کے علاقے بانڈئی سے تعلق رکھنے والی ضعیف العمر خاتون شمیم بی بی کا کہنا تھا کہ ان کے سات بچے لاپتا جن میں سے ایک شہید ہو گیا اور باقی 6بچوں کا ابھی تک پتہ نہیں چل رہا انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کے بچوں کو گھر کا راستہ دکھا کر رہا کیا۔
پشاور سے مزید