• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایرانی وفد کے طیارے کی حفاظت کیلئے انتہائی غیر معمولی اقدامات

اسلام آباد(آئی این پی )اسلام آباد مذاکرات میں حصہ لینے کیلئے پاکستان آنے والے ایرانی وفد کے طیارے کی حفاظت کیلئے انتہائی غیر معمولی اقدامات کئے گئے تھے جو کئی تہوں پر مشتمل تھے، افغانستان اور اسلام آباد تک اواکس اور لڑاکا طیاروں پر مشتمل فضائی نگرانی اور حفاظت کا موثر نظام کام کرتا رہا۔پاکستان کے ایوی ایشن ذرائع کے مطابق ایرانی وفد کو لانے والے طیارے نے دارالحکومت تہران سے سوا 400کلومیٹر دور بحیرہ کیسپین کے کنارے گورگان ائیرپورٹ سے اڑان بھری تھی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق شہری ہوا بازی سے متعلق ذریعے بتایا کہ پاکستانی ائیر ٹریفک کنٹرولرز کو پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا کہ ایرانی مہمانوں کے طیارے کا ٹرانسپونڈر بند ہو گا۔ جس طیارے کا ٹرانسپونڈر بند ہوتا ہے وہ کمرشل طیاروں کی نگرانی کرنے والے سکینڈری ریڈار پر نظر نہیں آ تا تاہم اس طیارے کو فوجی مقاصد کیلئے استعمال ہونے والے پرائمری ریڈار پر دیکھا جاسکتا ہے لیکن ٹرانسپونڈر بند ہونے کی وجہ سے پرائمری ریڈار پر بھی اس طیارے سے متعلق بنیادی معلومات دستیاب نہیں ہوتیں، یہ طیارہ پرائمری ریڈار پر صرف ایک نقطے کی صورت حرکت کرتا نظر آتا ہے۔ ایرانی طیارے کی حفاظت کیلئے کیا گیا ایک انتظام یہ تھا کہ ایرانی طیارے کے ساتھ ساتھ ایک پاکستانی ائیر لائن کا طیارہ بھی اڑ رہا تھا ، اس پاکستانی طیارے کا ٹرانسپونڈر کھلا ہوا تھا، دنیا بھر کے ریڈار اس روٹ پر پاکستان کا ائیر بس اے 321طیارہ دیکھ رہے تھے جب کہ اس کے ساتھ ساتھ ایران کا ائیر بس اے 300 طیارہ ٹرانسپونڈر بند کیے خاموشی سے اڑتا رہا۔
اہم خبریں سے مزید