• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکہ اور ایران میں دشمنی کی تاریخ چار دہائیوں سے زائد پر محیط

پیرس (اے ایف پی) امریکہ اور ایران کے درمیان دشمنی کی تاریخ چار دہائیوں سے زائد پر محیط ہے، جس کا آغاز 1979 کے اسلامی انقلاب اور تہران میں امریکی سفارت خانے کے یرغمال بحران سے ہوا۔ اب، دونوں دیرینہ حریف ایک ماہ سے زائد جاری رہنے والی جنگ کے خاتمے کے لیے اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی مذاکرات کرنے جا رہے ہیں، جبکہ ایک نازک جنگ بندی برقرار ہے مگر باہمی اعتماد کی شدید کمی بدستور موجود ہے۔4نومبر 1979 کو ایرانی طلبہ نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر کے 52 افراد کو یرغمال بنا لیا، جو 444 دن تک قید رہے۔ اس واقعے کے بعد امریکہ نے 1980 میں ایران سے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے اور تجارتی و سفری پابندیاں عائد کر دیں۔1995میں امریکی صدر بل کلنٹن نے ایران پر مکمل تجارتی پابندی لگا دی، جبکہ 2002 میں صدر جارج بش نے ایران کو ’’محور شر‘‘ میں شامل کیا۔ بعد ازاں 2019میں امریکہ نے ایران کی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔ایران کے جوہری پروگرام پر خدشات کے باعث 2015 میں عالمی طاقتوں کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا، جس کے تحت ایران کو پابندیوں میں نرمی ملی۔ تاہم 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی اور دوبارہ سخت پابندیاں عائد کر دیں، جس کے بعد کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
اہم خبریں سے مزید