کراچی (ٹی وی رپورٹ) ماہرین سید محمد علی، حامد میر، شیری رحمان، سردار مسعود خان، منہاس مجید، ڈاکٹر نعیم، پروفیسر نغمانہ، خاقان نجیب اور بشریٰ انجم بٹ نے کہا ہے کہ جنگ کا سب سے بڑا فاتح اس وقت پاکستان ہے۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے جو کردار ادا کیا وہ مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ اقوام متحدہ قرارداد کے ذریعے ضامن بنے،ٹرمپ کو نیتن یاہو سے ہوشیار رہنا ہوگا۔ پاکستان کا جتنا کردار دنیا کے سامنے آیا ہے اس سے کہیں زیادہ ابھی پس پردہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ”اسلام آباد مذاکرات امن کی اُمید“، کے حوالے سےجیو نیوز کی خصوصی نشریات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ تفصیلات کے مطابق ماہر سکیورٹی امور سید محمد علی نے کہا کہ نا صرف پاکستان بلکہ دنیا کی تاریخ کا آج بہت بڑا دن ہے ،دنیا کی سپر پاور اور اہم اسلامی ملک کے نمائندے مذاکرات کی ٹیبل پر موجود ہیں، کم و بیش 50ممالک نے پاکستان کی ثالثی کوششوں کو سراہا یا، امریکی صدر کے فتح کا اعلان واضح کرتے ہیں کہ وہ مزید جنگ نہیں چاہتے ، ایران میں بھی ان مذاکرات پر خوشی کاا ظہار کیا جا رہا ہے ، خلیجی ممالک نے سکون کا سانس لیا ، صرف دو ملک ایسے ہیں جہاں تشویش پائی جاتی ہے وہ ہیں بھارت اور اسرائیل،گزشتہ دو دنوں میں اسرائیل کا جارحانہ حملوں میں جو شدت آئی ہے وہ مایوسی کو واضح کر رہے ہیں ۔ مذاکرات سے چند گھنٹوں قبل ایسا نازک موڑ آیا جہاں عرب دنیا ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کے دہانے پر تھی ایسے میں پاکستان کی کوششوں سے آج وہی خلیجی عرب ممالک اسرائیل کی جنگ بندی کی خلاف ورزی کی مذمت کر رہے ہیں اوراسرائیل اس وقت سفارتی تنہائی کا شکار ہو گیا ہے۔ میلوں دور پہنچنے والے ایرانی اور امریکی اعلیٰ سطح کے وفودپر اپنی عوام ،قیادت اور عالمی برادری کی توقعات کا باراور ذمہ داری کندھوں پراٹھائے ہوئے ہیں اس موقع کو کوئی فریق ضائع نہیں کرنا چاہتا، مذاکرات میں اپنے اپنے ایجنڈے اور تجاویز پر فریقین قائم رہتے ہیں لیکن مذاکرات چلتے رہیں تو راستے بنتے جاتے ہیں۔ایران کو مذاکرات کی میز پر سامنے بٹھانے کے لئے امریکا لچک دکھارہا ہے ، لیکن ایران کو براہ راست مذاکرات کیلئے تہران سے اجازت لینا ہوگی ۔ ماحول میں واضح نظر آرہا ہے کہ امریکا اب اس جنگ سے نکلنا چاہتا ہے ٹرمپ سے زیادہ جے ڈی وینس اس جنگ بندی کے خواہاں ہیں، جنگ کی ابتدا سے ہی وہ دل سے اس جنگ کے حامی نہیں تھے ، جے ڈی وینس آج اسلام آباد میں دیر پا امن کے قیام میں کامیاب ہوئے تو وہ صرف اس ایک نکتے پر ہی اپنی صدارتی مہم چلا سکتے ہیں۔سینئر تجزیہ کار حامد میرنے کہا کہ پڑوسی میڈیا کے تمام تر ڈرامے بازیوں کے باوجود پاکستان میں اہم طیاروں کی لینڈنگ ہو چکی ہے ،ایک ناممکن چیز کو پاکستان نے ممکن کر دکھایا ہے ، جنگ کے دونوں فریقین مذاکرات کی میز پر بیٹھ گئے ہیں فوری طور پر کسی مفاہمتی معاہدے کی توقع نہیں رکھی جاتی ، مذاکرات کے نتیجے میں ایک درمیابی راستہ نکالا جاتا ہے ۔