• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہرمز کی ناکہ بندی کا امریکی اعلان، پاسداران نے ڈرون سے نگرانی شروع کردی، ایران مذاکرات کی میز پر واپس آئے گا، ٹرمپ

تہران /میامی/ کراچی(اے ایف پی /نیوز ڈیسک) اسلام آباد میں 21گھنٹے میراتھون مذاکرات کے باوجودامریکا اورایران میں کوئی ڈیل نہ ہوسکی ‘ دونوں ممالک کے وفودواپس روانہ ہوگئے جبکہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایک ملاقات میں معاہدے کی توقع نہیں تھی‘دو تین اہم نکات پر اختلاف رائے کے سبب معاہدہ نہیں ہو سکا‘ تہران کو یقین ہے کہ ہمارے اور پاکستان کے درمیان، اور خطے میں ہمارے دیگر دوستوں کے ساتھ رابطے جاری رہیں گے‘امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو ایران کے ساتھ ناکام امن مذاکرات کے بعد آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی کا حکم دے دیا اورکہاکہ مجھے یقین ہے کہ تہران مذاکرات کی میز پر واپس آئے گااورہمیں وہ سب کچھ دے گاجوہم چاہتے ہیں ۔مذاکرات اچھے رہے مگر آبنائے ہرمزاورجوہری معاملے پر اتفاق نہ ہوسکا‘انہوں نےبیجنگ کو بھی دھمکی دی کہ اگراس نے ایران کو فوجی امداد فراہم کی توچینی مصنوعات پر50فیصد ٹیرف عائد کیاجائے گا۔نیٹونے ہرمز کھلوانے میںمددکی پیشکش کی ہے ۔ ایرانی بحریہ کے سربراہ شہرام ایرانی نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے متعلق ٹرمپ کی دھمکی کو مضحکہ خیزقرار دے دیاجبکہ ٹرمپ کی دھمکی کے بعد پاسدارانِ انقلاب نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں ڈرون کے ذریعے آبنائے ہرمز کی نگرانی کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ ویڈیو کے ساتھ یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ ہرمزایرانی سکیورٹی فورسز کے مکمل کنٹرول میں ہے ‘کسی بھی غلط فہمی یا غلط اقدام کی صورت میں دشمن مہلک بھنور میں پھنس جائیں گے‘آبنائے کے قریب آنے والے فوجی جہازوں کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور ان سے سختی اور فیصلہ کن انداز میں نمٹا جائے گا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے مطابق امن مذاکرات میں واشنگٹن تہران کا اعتماد جیتنے میں ناکام رہاجبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہاہے کہ بری خبر یہ ہے کہ اسلام آباد میں21گھنٹے طویل مذاکرات کے باوجودہم کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے اور میرا خیال ہے کہ یہ امریکا سے زیادہ ایران کے لیے بری خبر ہے ‘بنیادی تنازع جوہری ہتھیاروں پر تھا۔ تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیاپیغامات اور فاکس نیوز کو انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہناتھاکہ نیٹو نے ہرمز کھلوانے میں مدد کی پیشکش کی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق امریکا نیٹو سے بہت مایوس تھا لیکن اب وہ آنا چاہتے ہیں اور آبنائے ہرمز کو کھلوانے میں مدد کرنا چاہتے ہیں۔ اس اہم آبی گزر گاہ کو کھلوانے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا اس لیے ہم آبنائے ہرمز کو ہر قیمت پر کھولیں گے‘ہم وہاں مائن سویپرزبھیج رہے ہیں ‘برطانیہ بھی ایسا ہی کریگا۔امریکی صدر نے تسلیم کیاکہ اسلام آباد میں ہونے والے طویل مذاکرات اچھے رہے اور اکثر نکات پر اتفاق ہو گیا تھا تاہم تہران اپنے جوہری عزائم ترک کرنے سے انکار میں ’’ہٹ دھرم‘‘ رہا اور اس نے آبنائے ہرمز کھولنے سے بھی انکار کیا۔ انہوں نے یہ دھمکی بھی دہرائی کہ اگر کوئی دیرپا معاہدہ طے نہ پایا تو ایران کے بجلی گھروں اور دیگر شہری توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا جائے گا، اور خبردار کیا کہ ہم مکمل طور پر تیار ہیں اور ضرورت پڑی تو امریکی افواج ایران کا جو کچھ باقی ہے اسے بھی ختم کر دیں گی۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے امریکی بحریہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ بین الاقوامی پانیوں میں ہر اس جہاز کو تلاش کرے اور روکے جس نے ایران کو ٹول ادا کیا ہو۔امریکی بحریہ جلد ہی ایرانیوں کی بچھائی ہوئی بارودی سرنگوں کو تباہ کرنا شروع کرے گی۔ ان کا مزیدکہناتھاکہ تیل کی قیمتیں نومبر کے وسط مدتی انتخابات تک بلند رہ سکتی ہیں۔عرب امارات نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں رکاوٹ ڈالنے کے معاملے پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تیل اور گیس کی ترسیل کے اس اہم آبی گُزرگاہ کو بند کرنے یا محدود کرنے کا اختیار ایران کے پاس کبھی نہیں رہا۔ امارات کے وزیرِ صنعت سلطان احمد الجابر نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ایسی کوئی بھی کوشش علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی اقتصادی شہ رگ میں خلل ڈالنے کے مترادف ہے اور ہر ملک کی توانائی، خوراک اور صحت کے تحفظ کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔ایرانی پارلیمان کے ڈپٹی اسپیکر حاج بابائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کے لیے ریڈ لائن یعنی سرخ لکیر ہے‘ہرمز مکمل طور پر ایران کے کنٹرول میں ہے اور اس کی فیس ریال میں ادا کی جانی چاہیے۔ڈاؤننگ سٹریٹ کے مطابق برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے ایران اور امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان میں ہونے والے ناکام مذاکرات کے بعد کوئی راستہ نکالیں۔عمان کے سلطان کے ساتھ گفتگو میں اسٹارمر نے کہا کہ جنگ بندی کا جاری رہنا انتہائی اہم ہے اور یہ کہ تمام فریقین نے مزید کشیدگی سے گریز کیا ہے۔ایرانی پارلیمان کےا سپیکر قالیباف نے سوشل میڈیا پاجاری بیان میں کہا ہے کہ ہم نے مختلف تجاویز پیش کیں تاہم مخالف فریق مذاکرات کے اس دور میں ایرانی وفد کا اعتماد جیتنے میں ناکام رہا۔ایرانی قوم کے حقوق کے دفاع کے لیے وہ سفارتکاری کے ساتھ ساتھ فوجی جدوجہد پر بھی یقین رکھتے ہیں۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ ناکہ بندی کا اطلاق ان تمام اقوام کے ان تمام بحری جہازوں پر ہوگا جو ایران کی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں سے آرہے ہوں یا جارہا رہے ہوں۔ ان کے سوا دیگر ممالک سے آنے والے جہازوں کو نہیں روکا جائے گا۔

اہم خبریں سے مزید