کراچی (اسٹاف رپورٹر) امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفرخان نے لیاری کے بدترین حالات،انتظامی نااہلی، کرپشن، بنیادی سہولتوں کے فقدان اور لیاری ٹرانسمیشن پروجیکٹ کے حوالے سے آٹھ چوک پر عوامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ لیاری کے عوام کو ایک بار پھر جھوٹے وعدوں اور نام نہاد ترقیاتی پیکجز کے ذریعے دھوکہ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، پیپلزپارٹی کی بدترین انتظامی نااہلی، کرپشن اور بنیادی سہولتوں کے فقدان نے پورے لیاری کو مسائل کی دلدل میں دھکیل دیا ہے،صوبائی وزیر بلدیات کی جانب سے اعلان کردہ ”لیاری ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ“ دراصل عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے، ماضی میں کیے گئے ایسے تمام اعلانات محض کاغذی ثابت ہوئے ہیں،گزشتہ 15 سے 18 برسوں کے دوران پیپلز پارٹی کی حکومت نے بارہا لیاری اور کراچی کی ترقی کے نام پر اربوں روپے کے پیکجز کا اعلان کیا مگر ان کا کوئی عملی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ 2020 میں اعلان کردہ کراچی ٹرانسفارمیشن پلان بھی 2023 تک مکمل ہونا تھا، مگر 2026 آ چکا ہے اور شہر کی حالت مزید خراب ہو چکی ہے،قابض میئر بتائیں کہ 2022 میں لیاری کے لیے اعلان کردہ 3 ارب روپے کے پیکج کا کیا ہوا؟ اسی طرح سوئی سدرن گیس کمپنی سے ملنے والے ایک ارب 45 کروڑ روپے اور یونین کونسلز کو دیے گئے فنڈز کہاں خرچ ہوئے؟ لیاری کی 13 یونین کونسلوں کو دو سال میں کروڑوں روپے فراہم کیے گئے، مگر زمینی سطح پر کوئی کام نظر نہیں آتا،جماعت اسلامی کی ”حق دو لیاری کو“ تحریک کے ذریعے لیاری کے مسائل کو اجاگر اور صوبائی حکومت کا ہر سطح پر احتساب کیا جائے گا۔