کراچی(اسٹاف رپورٹر) ضلع وسطی پولیس نےاندھے قتل کا معمہ 48گھنٹوں میں حل کرکے نوجوان کے قتل میں ملوث دو خواتین سمیت چاروں مرکزی ملزمان کو گرفتار کرلیا،تفصیلات کے مطابق خواجہ نگری تھانہ کی حدود میں 10 اپریل 2026 کو علی الصبح تقریباً 5:30 بجے مسجد کے دروازے پر 33 سالہ نوجوان ریحان ولد غلام نبی کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا۔ واقعہ کا مقدمہ الزام نمبر 315/2026 بجرم دفعہ 302/34 تھانہ خواجہ اجمیر نگری میں درج کیا گیا تھا۔واقعہ کے بعد ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل ڈاکٹر محمد عمران خان نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس ڈی پی او خواجہ اجمیر کی نگرانی میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی۔ پولیس ٹیم نے ہیومن انٹیلیجنس، ٹیکنیکل بنیادوں اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے اندھے قتل کا معمہ حل کیا۔ابتدائی طور پر ڈکیتی مزاحمت ، سیاسی یا مذہبی بنیاد پر ٹارگٹ کلنگ کا تاثر دینے والا یہ واقعہ درحقیقت ایک منصوبہ بند قتل نکلا جس میں مقتول کی بیوی صدف، ساس فاطمہ، سالا جبران اور صدف کا دوست شیزان عرف سجو ملوث پائے گئے۔ملزمان نے ایک اسٹیٹ ایجنسی میں ملاقات کے دوران قتل کی سازش تیار کی، جس کے بعد شیزان نے واردات کے لیے آمادگی ظاہر کی۔ شیزان نے اپنے بھائی کی لائسنس یافتہ 9 ایم ایم پستول گھر سے چوری کی جبکہ جبران نے گولیاں اور ماسک فراہم کیا۔ملزمہ صدف نے ملزم شیزان کو مقتول کی روزمرہ کی روٹین سے آگاہ کیا کہ وہ صبح سنت اور نوافل گھر میں جبکہ فرض نماز مسجد میں ادا کرتا ہے۔ منصوبے کے مطابق ملزمان نے مقتول کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ نمازِ فجر کی ادائیگی کے لیے مسجد میں داخل ہو رہا تھا۔وقوعہ کے وقت ملزمان جبران اور شیزان موقع پر موجود تھے اور اطمینان سے مسجد کی جانب جاتے ہوئے سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی ریکارڈ ہوئے۔ دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزمہ صدف مقتول کو راستے سے ہٹا کر شیزان سے شادی کرنا چاہتی تھی، جس کی تصدیق اس کی والدہ فاطمہ نے بھی کی۔ایس ڈی پی او خواجہ اجمیر کی نگرانی میں ایس ایچ او تھانہ خواجہ اجمیر نگری اور ان کی ٹیم نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزمان شیزان اور جبران سمیت ملزمہ صدف اور اس کی والدہ فاطمہ کو گرفتار کرکے آلہ قتل بھی برآمد کرلیا۔مزید تفتیش اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔