• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جیکب آباد: ریلوے ٹریکس پر حملے، جعفر و سکھر ایکسپریس نشانے پر

جیکب آباد (نامہ نگار)ریلوے ٹریکس پر حملے، آئی جی سندھ خاموش،سوالوں سے فرار کیوں؟ جعفر و سکھر ایکسپریس نشانے پر، سیکورٹی ادارے جواب دینے سے قاصر،میڈیا کو روک دیا گیا، سندھ میں ریلوے ٹریکس پر بڑھتے ہوئے حملوں اور جعفر و سکھر ایکسپریس جیسی مسافر ٹرینوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات نے صوبائی سیکورٹی پر کئی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ تاہم، ان اہم حساس معاملات پر جوابدہی کے بجائے آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کی جانب سے خاموشیاور میڈیا ٹاک کے دوران سوالات سے پہلو تہی نے نئی بحث چھیڑ دی ہے جیکب آباد کے جکھرانی ہاؤس میں پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی اعجاز جکھرانی کے والد کی وفات پر تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران جب صحافی نے آئی جی سندھ سے جعفر ایکسپریس اور سکھر ایکسپریس کو نشانہ بنائے جانے اور ٹریکس کی سیکورٹی میں ناکامی سے متعلق سخت سوالات کیے، تو آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کسی بھی ٹھوس موقف دینے کے بجائے مختصر جواب دیا کہ "ان سوالات کے جواب بعد میں دوں گا" اور گفتگو ادھوری چھوڑ کر وہاں سے روانہ ہو گئے۔موقع پر موجود عینی شاہدین کے مطابق، میڈیا ٹاک کے دوران صحافیوں کو تیکھے سوالات کرنے سے مسلسل روکا جاتا رہا۔ جیسے ہی ریلوے ٹریکس پر دھماکوں اور امن و امان کی بگڑتی صورتحال کا تذکرہ ہوا، آئی جی سندھ کے ہمراہ موجود عملے نے مداخلت کی اور صحافیوں کو خاموش کرانے کی کوشش کی۔صحافیوں کا موقف ہے کہ عوامی تحفظ کے ذمہ دار اعلیٰ افسران کا میڈیا کےسوالات سے بچنا اور "بعد میں دیکھوں گا" کہہ کر نکل جانا عوام میں بے یقینی کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔
ملک بھر سے سے مزید